سٹی42: آج ایک بار پھر انٹرنیشنل مارکیٹ میں پٹرولیم کی قیمت گر گئی ہے۔ اس مرتبہ پٹرولیم کی قیمت میں دو فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے جو کافی بڑی کمی قرار دی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج بیان دیا کہ امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں نیوکلئیر ڈیل کے قریب پہنچ گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی تھی کہ ایران امریکی تحریری تجاویز کو ماننے کا عندیہ دے رہا ہے، ایسا ہوا تو بہت جلد ایران امریکہ نیوکلئیر ڈیل ہو جائے گی۔
اس سے پہلے صدر ٹرمپ کے واضح الفاظ میں دھمکیاں دی تھیں کہ اگر ایران کے ساتھ ایران کے ایٹم بم بنانے سے روکنے کے لئے ہو رہے نیوکلئیر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے ان بیانات سے خاص طور سے پٹرولیم کی مارکیٹ میں خدشات پیدا ہوئے کہ اگر امریکہ کی ایران سے جنگ ہوئی تو آبنائے ہرمز میں دنیا کو تیل کی ترسیل رک سکتی ہے۔ ان خدشات نے ٹرمپ ٹیرف کے پیدا کردہ بحران کے باوجود عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اونچی رکھنے میں کردار ادا کیا۔
صدر ٹرمپ نے قطر میں اپنے وزٹ کے دوران ہی یہ اعلان کیا کہ طویل مدتی امن کے لیے ایران کے ساتھ بہت سنجیدہ مذاکرات کر رہے ہیں۔
آج صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ نیوکلئیر ڈیل کے امکان کے متعلق مثبت بیان سے تیل کی عالمی مارکیت میں قیمتین فوراً گری ہیں۔ ابھی (آج نیویار ک میں اس وقت صبح ہو رچکی ہے ہے) تیل کی قیمتیں مزید گرنے کا بھی امکان ہے۔
آج صبح سے اب تک عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 2 فیصد سے زائدکمی ہوئی ہے۔
برطانوی خام تیل برینٹ آئل64 ڈالر اور امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 62 ڈالرکی سطح پر آگیا ہے۔
انٹرنیشنل مارکیٹ میں نیچرل گیس کی قیمت معمولی کمی کے ساتھ 3 ڈالرز 45 سینٹ فی ایم ایم بی ٹی یو میں فروخت ہو رہی ہے۔