ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

احسان فراموشی سے پراکسی جنگ تک

تحریر : سفیررضا چغتائی

احسان فراموشی سے پراکسی جنگ تک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ، سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحرانوں کا شکار رہا ہے، اس طویل کشمکش نے نہ صرف افغان معاشرے کو کمزور کیا بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی متاثر کیا، آج جب خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے تو یہ حقیقت زیادہ واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین ایک بار پھر علاقائی کشمکش اور پراکسی سیاست کے مرکز میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔

 اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں  کہ کسی بھی ریاست کی مضبوطی اس کی معاشی استحکام، سماجی توازن اور عالمی برادری کے ساتھ مثبت تعلقات پر منحصر ہوتی ہے مگر افغانستان کی موجودہ صورتحال میں معاشی بدحالی، بے روزگاری اور غیر یقینی حالات نے عام شہریوں کی زندگی کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ کاروباری سرگرمیاں محدود ہو رہی ہیں، سرمایہ کاری کا ماحول کمزور ہے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں,افغان معاشرے کی داخلی صورتحال بھی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے, خواتین کی تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں پر عائد پابندیاں عالمی سطح پر تنقید کا باعث ہیں۔

 کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے تمام شہریوں کو مساوی مواقع فراہم کیے جائیں، مگر افغانستان میں ایسے اقدامات معاشرتی ترقی کی رفتار کو سست کر رہے ہیں اور ملک کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ان حالات کے تناظر میں کشمیری عوام میں بھی افغانستان کی صورتحال پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ عوامی سطح پر یہ تاثر عام ہے کہ افغانستان میں موجودہ پالیسیوں اور بعض عناصر کی سرگرمیوں نے نہ صرف وہاں کے عوام کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ خطے کے امن کیلئے بھی نئے خطرات کو جنم دیا ہے۔

  کشمیری عوام سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ابھرنے کے لیے اعتدال، برداشت اور علاقائی تعاون کی پالیسیوں کو اپنانا ہوگا۔کشمیری عوام کی گفتگو میں ایک اور پہلو بار بار سامنے آتا ہے اور وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اسلامی اخوت اور برادرانہ تعلقات کی طویل تاریخ ہے۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران پاکستان نے افغان عوام کیلئے اپنے دروازے کھلے رکھے۔ لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی گئی، انہیں تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے اور انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ہر ممکن مدد کی گئی۔

 مشکل ترین حالات میں بھی پاکستان نے افغان عوام کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ ہر سطح پر ان کا ساتھ دیا۔لیکن آج بعض حلقوں میں یہ احساس ابھر رہا ہے کہ ان قربانیوں اور احسانات کی وہ قدر نہیں کی گئی جس کی توقع کی جاتی تھی اور اب یہ بات شدت سے محسوس کی جاتی ہے کہ بعض افغان عناصر احسان فراموشی کی حدیں پار کرتے ہوئے دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے لگے ہیں۔

  مبصرین کے مطابق بھارت، جو پاکستان کے بڑھتے ہوئے عالمی وقار اور اثر و رسوخ سے خائف ہے، افغانستان کو ایک پراکسی کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت، سفارتی کامیابیاں اور علاقائی کردار بعض قوتوں کے لیے ناقابلِ قبول بنتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف پراکسی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے۔اسی تناظر میں یہ خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں کہ افغانستان کی سرزمین پر سرگرم فتنۃ الخوارج، فتنۃ الہندوستان اور کالعدم ٹی ٹی پی جیسے عناصر کو پناہ مل رہی ہے۔ ان گروہوں کی سرگرمیوں کو پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام سے جوڑا جا رہا ہے، جس نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

 اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ مسلح افواج پاکستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کیلئے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ ہزاروں جوانوں اور افسران نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے وطن عزیز کے امن و استحکام کو یقینی بنانے میں تاریخی کردار ادا کیا۔ قوم اپنے ان بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت اور خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کر دیں۔

 پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں نے نہ صرف ملک کے اندر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کامیابی کی طرف گامزن کیا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے وقار کو بلند کیا۔ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کیا جاتا ہے۔اسی تناظر میں پاکستان کی عسکری قیادت کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت کو پاکستان کی دفاعی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہے۔ ان کی اعلیٰ عسکری صلاحیتیں، دور اندیشی اور قومی سلامتی کے امور پر گہری بصیرت نے پاکستان کی دفاعی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا ہے۔

 ان کی قیادت میں مسلح افواج پاکستان نہ صرف دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ جدید تقاضوں کے مطابق دفاعی تیاری کو بھی مضبوط بنا رہی ہیں,بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا وقار اور اثر و رسوخ مسلسل بڑھ رہا ہے,علاقائی سفارت کاری، سیکیورٹی تعاون اور عالمی فورمز پر پاکستان کا کردار پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر چکا ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت ان قوتوں کو کھٹک رہی ہے اور وہ خطے میں پراکسی حکمت عملی کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ  اگر افغانستان انتہا پسندی، دہشت گردی اور پراکسی سیاست سے مکمل لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اعتدال، تعلیم اور معاشی ترقی کی راہ اپنائے تو یہ پورے خطے میں امن اور خوشحالی کی نئی راہیں کھول سکتا ہےلیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ برادرانہ تعلقات، اسلامی اخوت اور باہمی احترام کو بنیاد بنا کر ایک نئی سمت اختیار کی جائے۔ یہی راستہ افغانستان اور پورے خطے کے روشن اور پائیدار مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔