(ویب ڈیسک) امریکہ میں قائم سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کی ایک نئی تحقیق میں یوٹیوب، اسپوٹیفائی، ایپل میوزک اور میٹا کی میوزک لائبریری پر موجود 533ہندوتوا پاپ گانوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن پر مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت،غیر انسانی سلوک اور تشدد پر اکسانے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مواد متعلقہ پلیٹ فارمز کی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز اور پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
بھارت کے ایک بڑے اردو اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں قائم تنظیم Center for the Study of Organized Hate نے پیر کو جاری ہونے والی اپنی نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ یوٹیوب، ایپل میوزک، اسپوٹیفائی اور میٹا کے پلیٹ فارمز پر سیکڑوں ایسے ہندوتوا پاپ گانے موجود ہیں جو مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں، کے خلاف نفرت، تعصب اور بعض صورتوں میں تشدد کی ترغیب دیتے ہیں۔
Profiting from Hate Music: YouTube, Meta, Spotify and Apple Music’s Role in Hosting and Funding India’s Hate Music Industry کے عنوان سے شائع ہونے والی رپورٹ کو بھارت کی مبینہ ’’نفرت انگیز موسیقی کی صنعت‘‘ کی پہلی جامع نقشہ سازی قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں نہ صرف ایسے مواد کی میزبانی کر رہی ہیں بلکہ اشتہارات، مونیٹائزیشن اور پلیٹ فارم سپورٹ کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں بھی کردار ادا کر رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چار بڑے پلیٹ فارمز پر مجموعی طور پر533 گانوں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں 210 گانے یوٹیوب پر، 109 گانے اسپوٹیفائی پر،103گانے میٹا میوزک لائبریری میں اور 101 گانے ایپل میوزک پر موجود پائے گئے۔ تحقیق کے مطابق ان گانوں کی تخلیق اور اشاعت میں درجنوں فنکار اور میوزک چینلز شامل ہیں۔
سی ایس او ایچ کا کہنا ہے کہ صرف یوٹیوب پر موجود ان گانوں کو 198ملین سے زائد مرتبہ دیکھا گیا، جبکہ میٹا کے پلیٹ فارمز پر یہ گانے5.9 ملین سے زیادہ انسٹاگرام ریلز میں استعمال ہوئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً ہر دو میں سے ایک گانا مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کو فروغ دیتا یا اس پر اکساتا ہے۔ سی ایس او ایچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر راقب نائیک نے کہا کہ ’’نفرت انگیز موسیقی بڑے پیمانے پر تشدد کے سب سے قدیم اور خطرناک آلات میں سے ایک ہے، اور ہم نے دیکھا ہے کہ یہ روانڈا سے میانمار تک کہاں لے جا سکتی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جو چیز بھارت کے ہندوتوا نفرت انگیز مواد کو زیادہ خطرناک بناتی ہے وہ اس کی رسائی ہے۔ یہ کمپنیاں اور پلیٹ فارم ان فنکاروں کو عالمی سامعین، مالی وسائل اور مزید مواد تیار کرنے کے ذرائع فراہم کر رہے ہیں‘‘۔
رپورٹ کے مطابق یوٹیوب پر موجود 210 گانوں میں سے 104 گانے (49 فیصد) ایسے ہیں جو براہ راست مسلمانوں کے خلاف تشدد کو بھڑکانے یا دھمکی دینے والے مواد پر مشتمل ہیں۔ ان گانوں کو مجموعی طور پر 97 ملین سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ باقی گانے اگرچہ براہ راست تشدد کی اپیل نہیں کرتے، تاہم وہ مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت، توہین آمیز زبان، غیر انسانی رویوں اور سازشی نظریات کو فروغ دیتے ہیں، جو سماجی کشیدگی اور حقیقی دنیا میں نقصان دہ رویوں کے لیے ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں اشتہاری نظام پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق 103 برانڈز کے اشتہارات نفرت انگیز قرار دی گئی ویڈیوز کے ساتھ دکھائے گئے۔ ان میں 78 فیصد ایسے ویڈیوز تھے جو پالیسیوں کی مبینہ خلاف ورزی کر رہے تھے، جبکہ 83 فیصد ویڈیوز میں تشدد سے متعلق مواد موجود تھا۔
سی ایس او ایچ نے جن اشتہاری اداروں اور برانڈز کا ذکر کیا ہے ان میں اوپن اے آئی کا چیٹ جی پی ٹی، گوگل کا نوٹ بک ایل ایم، امیزون پرائم، اڈوبی، ڈیل، لیوائی، کیلوگس، فلپ کارٹ اور ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے نام قابل ذکر ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یوٹیوب کے ’’Super Thanks‘‘ فیچر، جس کے ذریعے ناظرین براہ راست مالی معاونت کر سکتے ہیں، مبینہ طور پر 55فیصد خلاف ورزی کرنے والے ویڈیوز پر فعال تھے۔ تحقیق کے مطابق Mayur Music نامی ایک چینل، جس پر 25خلاف ورزی کرنے والے گانے موجود تھے، کو یوٹیوب کا سلور کریئیٹر ایوارڈ بھی دیا جا چکا ہے۔
سی ایس او ایچ کا مؤقف ہے کہ اگرچہ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کے پاس نفرت انگیز مواد سے متعلق واضح پالیسیاں موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یوٹیوب اب بھی بھارتسے تعلق رکھنے والی نفرت انگیز موسیقی کے لیے سب سے بڑا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے۔ رپورٹ کے اختتام پر YouTube، Meta، Spotify اور Apple Music کے لیے سفارشات پیش کی گئی ہیں جن میں نفرت انگیز موسیقی کی نشاندہی، پالیسیوں کے مؤثر نفاذ، مونیٹائزیشن روکنے، اشتہارات کی نگرانی اور خلاف ورزی کرنے والے مواد کو ہٹانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ منظر عام پر آنے کے وقت تک مذکورہ پلیٹ فارمز کی جانب سے اس تحقیق پر کوئی جامع عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا تھا۔