ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت؛ مسلم خواتین کیخلاف اے آئی ٹیکنالوجی کو کردار کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف

بھارت؛ مسلم خواتین کیخلاف اے آئی ٹیکنالوجی کو کردار کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42 : بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف اے آئی ٹیکنالوجی کو نفرت اور کردار کشی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ 

بدکردار مودی کے دور میں مسلم خواتین کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بڑھنے لگا، عالمی میڈیا نے بھارت میں مسلم خواتین کو خاموش کرانے کے لیے ڈیجیٹل ہراسانی کے نئے ہتھکنڈے کا پردہ چاک کر دیا۔ 

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں مسلم خواتین کی ڈیجیٹل تذلیل اور ہراسانی میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا جا رہا، اے آئی سے  سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کے ذریعے مسلم خواتین کی ساکھ تباہ کی جارہی۔ مودی کے بھارت میں مسلم خواتین کیلئے آن لائن نفرت، پروپیگنڈے اور کردار کشی عام ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق اے آئی  ویڈیوز میں مسلم خواتین کے بارے میں جھوٹے اور ہتک آمیز دعوے پھیلائے جا رہے، بھارتی سوشل میڈیا پر مسلم خواتین کی جعلی اور جنسی نوعیت کی تصاویر لاکھوں بار شیئر ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے، مسلم خواتین کی جنسی نوعیت کی اے آئی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہیں۔ مودی کے بھارت میں ایسے اقدامات سے نفرت انگیز بیانیوں اور آن لائن بدسلوکی کو فروغ مل رہا، مسلم خواتین کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا اے آئی کے ذریعے نئی شکل اختیار کر چکا، اے آئی سے تیار کردہ مواد کے ذریعے مسلم خواتین کو بدنام کرنے والی مہمات پر بھارتی قانونی نظام بے بس ہے۔ بھارت میں مسلم خواتین کے خلاف "پورنیفکیشن آف پولیٹکس" کا رجحان تشویشناک ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلم خواتین کے خلاف مصنوعی ذہانت کا استعمال "ڈیجیٹل دہشتگردی" ہے، مودی کے بھارت میں مسلم خواتین کی آن لائن سلامتی شدید خطرات سے دوچار ہے۔