سٹی 42 : پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے سنٹرل کنٹریکٹس کیلئے نئے فریم ورک کا اعلان کردیا گیا، 2026 سے نیا سنٹرل کنٹریکٹ سسٹم نافذ العمل ہوگا۔
پرانے اے، بی، سی اور ڈی کیٹیگری ماڈل کے خاتمے کی تجویز پیش کردی گئی۔ پی سی بی کے مطابق کھلاڑیوں کی درجہ بندی کارکردگی اور وابستگی کی بنیاد پر ہوگی، ٹیسٹ کرکٹ کے تحفظ اور فروغ کو مرکزی حیثیت دے دی گئی۔ اس کے علاوہ سنٹرل کنٹریکٹس میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
کھلاڑیوں کے لیے واضح اور قابلِ فہم ترقی کا راستہ متعارف، سنٹرل کنٹریکٹ کے حصول کیلئے ڈومیسٹک کرکٹ میں شرکت ضروری قرار دی گئی ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں فعال کردار سنٹرل کنٹریکٹ کی بنیادی شرط ہوگی، کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو اضافی انعامات اور مراعات ملیں گی۔ اس کے علاوہ نئے فریم ورک میں پانچ مختلف فارمیٹ ٹریکس متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ریڈ بال کرکٹ اور ٹیسٹ سپیشلسٹس کے تحفظ کیلئے الگ راستہ مقرر کردیا گیا، فرنچائز کرکٹ سے وابستہ کھلاڑیوں کیلئے بھی الگ درجہ بندی کا نظام، قومی ٹیم اور ڈومیسٹک کرکٹ کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کرنے کی کوشش۔ پی سی بی کے مطابق کھلاڑیوں کی وابستگی اور دستیابی کو درجہ بندی میں اہمیت دی جائے گی۔
پی سی بی کے مطابق سنٹرل کنٹریکٹ فریم ورک میں جوابدہی کے اصول کو شامل کر لیا گیا۔ بورڈ اور کھلاڑیوں کے درمیان فیصلوں کی وجوہات واضح ہوں گی، نیا نظام سابقہ کنٹریکٹ اسٹرکچر کی جگہ لے گا۔ پی سی بی نے کارکردگی پر مبنی اور شفاف کنٹریکٹ ماڈل پیش کر دیا، نیا فریم ورک قومی کرکٹ کے معیار میں بہتری لانے میں مددگار ثابت ہوگا، 2026 کے سنٹرل کنٹریکٹس نئے قواعد و ضوابط کے تحت جاری کیے جائیں گے۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ سینٹرل کنٹریکٹ سسٹم میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں، جن کے تحت اب کھلاڑیوں کی کارکردگی کا زیادہ تر انحصار ڈیٹا اور جدید تجزیاتی نظام پر ہوگا۔ نیا ماڈل جدید کرکٹ کے بدلتے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس میں کھلاڑیوں کی جانچ کے لیے روایتی طریقوں کی جگہ ڈیٹا بیسڈ اپروچ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب سینٹرل کنٹریکٹ کا تقریباً 85 فیصد حصہ کارکردگی کے ڈیٹا کی بنیاد پر طے کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی ڈیٹا اینالیسس کو شامل کیا جا رہا ہے جبکہ کھلاڑیوں کے لیے میڈیکل فٹنس کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
چیئرمین پی سی بی کے مطابق نئے نظام کے تحت ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹرز کا براہِ راست موازنہ ختم کر دیا گیا ہے، اور ہر فارمیٹ کو الگ شناخت اور اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی کو اس کے مخصوص فارمیٹ ٹریک سے منسلک کیا جائے گا تاکہ اس کی کارکردگی کا جائزہ اسی کے مطابق لیا جا سکے۔
چئیر مین پی سی بی نے کہا کہ ہر معاملے کا جواب دینا ہماری زمہ داری ہے، ہم نے دو طرفہ سیریز میں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹورنامنٹس میں اچھا پرفارم نہیں کر پاتے، پرفارم نہ کرنے کے حوالےسے جائزہ لے رہے ہیں، تمام سابق کرکٹرز رابطے میں ہیں۔
مائیک ہیسن نے اس موقع پر کہاکہ کھلاڑیوں کو بتایا کہ اُنکو پاکستان کیلئے کھیلنا اورجیتنا ہے۔
عاقب جاوید نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ اب تین طرح کی کرکٹ ہوتی ہے، گزشتہ2 سال میں ریڈ بال کرکٹ میں ہمیں مسائل کرنا پڑا ۔