ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ کا لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری

 لاہور ہائیکورٹ کا لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جانب سے سہولتی اراضی کی ایل ڈی اے کو منتقلی قانونی ہے، تاہم ایل ڈی اے اس اراضی کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کر سکتا بلکہ یہ اراضی صرف اسی عوامی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

جسٹس راحیل کامران نے ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کی درخواست پر 23 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں آئندہ کے لیے اہم قانونی اصول بھی طے کر دیے گئے۔اس  کیس میں پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد عثمان خان نے عدالتی معاونت اور پیروی کی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ سکول، پارک، مساجد، قبرستان، ڈسپنسری اور دیگر عوامی سہولیات کسی بھی رہائشی منصوبے کا بنیادی حصہ ہیں اور ان کا مقصد شہریوں کو بہتر اور باوقار زندگی کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسی اراضی عوامی امانت ہے، اس لیے اسے کسی بھی صورت تجارتی مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
،فیصلے میں کہا گیا کہ اگرچہ سہولتی اراضی ایل ڈی اے کے نام منتقل ہو جاتی ہے، تاہم ایل ڈی اے کو اس پر غیر محدود اختیار حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ صرف قانون اور عوامی مفاد کے مطابق ہی اس کا استعمال کر سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی سہولتی پلاٹ کا استعمال صرف اسی مقصد کے لیے ہوگا جس کے لیے وہ اصل لے آؤٹ پلان میں مختص کیا گیا تھا۔
،لاہور ہائیکورٹ نے ایل ڈی اے کو ہدایت کی کہ ایگریکس کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں سکول کے لیے مختص اراضی کو تین ماہ کے اندر قانون کے مطابق نیلامی، الاٹمنٹ یا لیز کے ذریعے استعمال میں لایا جائے تاکہ وہاں تعلیمی سہولت فراہم کی جا سکے۔عدالت نے قرار دیا کہ گزشتہ تقریباً 30 برس سے سکول کے لیے مختص اراضی پر سکول قائم نہ ہونا شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ آئین شہریوں کو باوقار زندگی، تعلیم اور بنیادی سہولیات کا حق دیتا ہے، اس لیے متعلقہ ادارے ان سہولیات کی بروقت فراہمی کے پابند ہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں اگرچہ کوآپریٹو سوسائٹیز ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ہوتی ہیں، لیکن رہائشی منصوبوں کی منظوری، منصوبہ بندی اور ترقی کے معاملات میں وہ بھی ایل ڈی اے ایکٹ 1975 اور متعلقہ قواعد و ضوابط کی پابند ہیں۔عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ ایل ڈی اے ایکٹ 1975 کے تحت منصوبہ بندی، لینڈ یوز اور ہاؤسنگ اسکیموں کی منظوری کے معاملات میں ایل ڈی اے کا اختیار برقرار رہے گا اور اس حوالے سے دیگر قوانین پر ایل ڈی اے ایکٹ کو فوقیت حاصل ہوگی۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سہولتی پلاٹس عوامی مفاد کے لیے مخصوص ہوتے ہیں اور ایل ڈی اے ان کی حیثیت ایک عوامی امانت کے طور پر برقرار رکھنے کا پابند ہے، لہٰذا ان کے استعمال میں کسی قسم کی من مانی یا قانون سے ہٹ کر اقدام عدالتی جانچ کے دائرے میں آئے گا۔

Ansa Awais

Content Writer