کلیم اختر: پنجاب کنزیومر پروٹیکشن کونسلز نے گزشتہ دو ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق ناقص مصنوعات اور غیر معیاری خدمات کے خلاف صارفین کی جانب سے 6 ہزار 330 شکایات درج کرائی گئیں، جن میں سے 6 ہزار 68 کیسز کا صرف 15 روز میں فیصلہ کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ناقص مصنوعات اور خراب سروسز فراہم کرنے والے اداروں پر مجموعی طور پر 40 لاکھ 88 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ ایک ہزار 500 سے زائد متاثرہ صارفین کو ہرجانے اور رقوم کی واپسی بھی یقینی بنائی گئی۔
سیکرٹری فوڈ سیفٹی ڈاکٹر کرن خورشید نے کہا کہ پنجاب کنزیومر ایکٹ کے تحت صارفین کو اب پہلے سے دوگنا قانونی تحفظ حاصل ہے اور ان کے حقوق کے مؤثر تحفظ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کنزیومر کورٹ نے فرحان اختر کو 75 ہزار روپے مالیت کی آئل ایکسٹریکٹر مشین واپس دلوائی، احمد منظور کو موبائل کمپنی کے خلاف شکایت پر 41 ہزار روپے مالیت کا نیا موبائل فون فراہم کیا گیا، جبکہ ردا زینب کو 65 ہزار روپے مالیت کا نیا موبائل ملا۔ اسی طرح محمد اعظم کو اسد علی ایپل ایل ای ڈی کیس میں 18 ہزار روپے مالیت کی نئی ایل سی ڈی دلوائی گئی۔