ملک اشرف : لاہورہائیکورٹ کا قصورپولیس کی ناقص تفتیش پر برہمی کا اظہار ، ڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کو 20 جولائی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
جسٹس محمدطارق ندیم نےملزم وحیدسمیت چارملزمان کی عبوری درخواستِ ضمانت پرسماعت کی۔ سماعت کے دوران تھانہ صدرچونیاں کے تفتیشی افسر اے ایس آئی منور سرکاری وکیل کےہمراہ پیش ہوئے۔سماعت کے دوران جسٹس محمد طارق ندیم نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا، "آپ کی تفتیش کیاکہتی ہے؟"تفتیشی افسر نےبتایا کہ میری تفتیش کے مطابق چاروں ملزمان قصوروار ہیں۔اس پر عدالت نےمزیدسوال کیا،کیا آپ کوملزمان کی گرفتاری چاہیے؟"تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ "جی، گرفتاری مطلوب ہے۔
عدالت نے مقدمے کے ریکارڈ کا جائزہ لیتے ہوئے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ مدعی نے خود ان ملزمان کواپناکمرہ دےرکھا تھا، پھر مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 452 کیسے بنتی ہے؟تاہم تفتیشی افسر عدالت کے سوالات کا تسلی بخش جواب دینےاوراپنی تفتیش کی قانونی بنیادواضح کرنےمیں ناکام رہا۔جسٹس محمد طارق ندیم نےڈی پی او قصور آفتاب پھلروان کو 20 جولائی کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیااورمزیدسماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔