ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے مغوی کی عدم بازیابی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پولیس افسران کی بروقت پیش نہ ہونے پر آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی پی او گجرات رانا عمر فاروق پر سخت اظہار ناراضگی کیا ۔
جسٹس محمد طارق ندیم نے سائلہ طیبہ بی بی کی درخواست پر کی، جنہوں نے اپنے شوہر کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ، جسٹس محمد طارق ندیم نے آر پی او گوجرنوالہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’کون سا قانون ہے کہ عدالت آپ کو طلب کرے اور آپ پیش نہ ہوں؟‘‘اس موقع پر آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے رہے اور کہا کہ ’’ عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتا ہوں‘‘۔ تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ پولیس کی جانب سے درخواست گزار پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ بازیابی کی درخواست واپس لے۔ جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ ’’اب آپ نے درخواست گزار کو دباؤ میں لینا شروع کر دیا ہے کہ درخواست واپس لیں‘‘۔ افسران کو کبھی شوق سے طلب نہیں کیا جاتا۔ پہلے ایس ایچ او، پھر ایس پی اور بعد ازاں ڈی پی او کو بلایا جاتا ہے، جبکہ کسی سنگین اور سنجیدہ معاملے میں ہی سینئر پولیس افسر کو طلب کیا جاتا ہے۔ جسٹس محمد طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ حکم دیا تھا ’’بازیابی کروا دیں، بے شک کسی کانسٹیبل کو بھیج دیں، اس سے زیادہ عدالت کیا سہولت دے سکتی ہے‘‘۔ جسٹس محمد طارق ندیم
نے مزید ریمارکس دئیے کہ ڈی پی او گجرات کو طلب کرنے کے باوجود دوسری مرتبہ بھی انسپکٹر اعجاز ہی عدالت میں پیش ہوا، جو عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’’اگر عدالتی حکم پسند نہیں تو اسے چیلنج کر دیں، آپ کو چیلنج کرنے کا حق حاصل ہے‘‘۔سماعت کے دوران ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل قمرالزمان قریشی نے مؤقف اختیار کیا کہ درخواست گزار اور مبینہ مغوی کے نام کا کوئی وجود ہی نہیں، جسے پولیس تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست میں نام طیبہ ہے جبکہ اسٹامپ پیپر اکرم کے نام کا ہے اور مغوی کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’’جب پہلے آرڈر کیا گیا تھا تو پولیس نے اس وقت اعتراض کیوں نہیں اٹھایا؟ اس وقت تو عدالت کو کچھ نہیں بتایا گیا‘‘۔
عدالت نے آر پی او سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’مغوی کا وجود نہیں، ہمارا دل نہیں مانتا، آپ کا مانتا ہوگا‘‘۔ عدالت نے مزید کہا کہ جب آر پی او کو طلب کیا گیا تو درخواست واپس لینے کی متفرق درخواست دائر کر دی گئی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے مغوی کی بازیابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی، تاہم مبینہ مغوی کا کوئی وجود ہی نہیں، اسی لیے درخواست واپس لینے کی استدعا کی گئی ہوگی۔جسٹس محمد طارق ندیم نے کہا کہ ’’ہم افسران کو شوق سے نہیں بلاتے، ہمیں معلوم ہے کہ اگر کوئی افسر ضلع چھوڑ کر آتا ہے تو وہاں کے عوام متاثر ہوتے ہیں‘‘۔ عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ جب سینئر افسر کو بلایا جاتا ہے تو ماتحت افسران سے محبت جاگ جاتی ہے اور ان کی طرف داری کی جاتی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ماتحت افسران درست تفتیش اور کام نہیں کر رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سپروائزری نظام کمزور ہے۔اس پر آر پی او گوجرنوالہ خرم شہزاد نے عدالت کو یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ وہ ماتحت افسران کے ساتھ میٹنگ کر کے نظام کو بہتر بنائیں گے اور آئندہ شکایت کا کوئی موقع نہیں ملے گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے کارروائی ملتوی کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور معاملے کو سنجیدگی سے لے۔