ویب ڈیسک: بھارت کے شہرلکھنؤ میں بھارتی کرکٹر محمد سمیع کے بھائی محمد کیف کے خلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کر لیا گیا ۔ شکایت کرنے پر سمیع کے دوسرے بھائی حسیب پر بھی متاثرہ خاتون کو دھمکانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق لکھنؤ کے آشیانہ تھانہ علاقے میں شادی کا جھانسہ دے کر جنسی استحصال کرنے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ شکایت کرنے پر سمیع کے دوسرے بھائی حسیب پر بھی متاثرہ خاتون کو دھمکانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ آشیانہ علاقے کی رہنے والی ایک خاتون نے کیف اور حسیب کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ متاثرہ خاتون طلاق یافتہ ہے اور اس کا ایک بیٹا بھی ہے۔
آشیانہ تھانہ میں پولیس کو دی گئی تحریر کے مطابق، 2020 میں ایک مشترکہ دوست کے ذریعے خاتون کی ملاقات محمد کیف سے ہوئی تھی۔ اس وقت متاثرہ خاتون غازی آباد کی ایک پوش سوسائٹی میں رہتی تھی۔ خاتون کے مطابق محمد کیف مغربی بنگال کی جانب سے رنجی ٹرافی کرکٹ کھیلتا ہے۔ خاتون کے مطابق 2023 میں کیف نے اس سے شادی کرنے کی بات کہی تھی۔ متاثرہ نے کیف کو بتایا تھا کہ وہ طلاق یافتہ ہے اور ایک بیٹے کی ماں ہے۔ اس پر کیف نے کہا تھا کہ اسے خاتون کے ماضی اور اس کے بیٹے سے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
متاثرہ خاتون کی شکایت کے مطابق، 9 دسمبر 2023 کو کلکتہ کے ایک ہوٹل میں شادی کا جھانسہ دے کر کیف نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ عصمت دری کی۔ اس کے بعد مختلف شہروں اور الگ الگ مقامات پر بھی خاتون کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کیا گیا۔ متاثرہ خاتون 2023 سے 2026 تک نئی دہلی کی ایک ایئرلائنز میں کیبن کریو کے طور پر کام کرتی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ محمد کیف کو خاتون کا ملازمت کرنا پسند نہیں تھا۔ اسی وجہ سے کیف کے کہنے پر خاتون نے اپنی ملازمت چھوڑ دی تھی۔ خاتون کے مطابق دسمبر 2025 میں آئی پی ایل نیلامی کے بعد کیف نے اس سے شادی کرنے کی بات کہی تھی، لیکن آئی پی ایل نیلامی کے بعد بھی کیف نے اس سے شادی نہیں کی۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2026 میں امروہہ میں ایک کرکٹ کوچ کے گھر پر متاثرہ خاتون کی ملاقات محمد کیف کی والدہ اور بھائی حسیب سے ہوئی تھی۔ خاتون کے مطابق، وہاں حسیب نے اسے دھمکایا تھا۔ متاثرہ خاتون کی تحریری شکایت کی بنیاد پر محمد کیف کے خلاف عصمت دری اور حسیب کے خلاف دھمکانے کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔