ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے دو سال سے مبینہ لاپتہ شہری کی عدم بازیابی پر پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بریسٹر ظفر اللہ خان کو فوری طلب کرلیا۔ عدالت نے آئی جی پنجاب کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر بھی عدم اطمینان کا اظہار کیا اور حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک مبینہ لاپتہ شہری کو ہر صورت بازیاب کرایا جائے۔
جسٹس فاروق حیدر نے شہری محمد عثمان کی درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد، ڈی آئی جی لیگل اویس احمد ملک، ڈی پی او گجرات فیصل شہزاد اور ڈی پی او منڈی بہاوالدین کامران عامر خان عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری محمد نواز اور چوہدری جواد یعقوب نے بھی عدالت کی معاونت کی۔دوران سماعت عدالت نے پولیس کی رپورٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار نے دس دسمبر دو ہزار چوبیس کو اپنے بھائی کی بازیابی کے لیے ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، دو سال گزر گئے لیکن ابھی تک شہری بازیاب نہیں ہوسکا۔
جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ مبینہ لاپتہ شہری دو سال سے لاپتہ ہے، ہم اللہ کو کیا جواب دیں گے؟ عدالت نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ پولیس نے اپنی ذمہ داری کیوں نہیں نبھائی اور شہری کی بازیابی کے لیے سنجیدہ کوششیں کیوں نہیں ہوئیں۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو فوری طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب پیش ہوکر بتائیں کہ دو سال گزرنے کے باوجود شہری کیوں بازیاب نہیں ہوا۔آر پی او گوجرانوالہ خرم شہزاد نے عدالت کو بتایا کہ نئے ڈی پی او گجرات نے کیس میں پیش رفت کی ہے، جبکہ مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی کے لیے موبائل سمز سمیت دیگر ذرائع سے بھی مدد لی گئی۔ آر پی او نے بتایا کہ اسی نوعیت کے منڈی بہاوالدین کے ایک واقعے کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
اس پر جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ پہلے کچھ کارکردگی دکھا رہے تھے، لیکن اب اس کیس میں پولیس کی جانب سے جمود کی صورتحال ہے۔ عدالت نے آر پی او گوجرانوالہ سے استفسار کیا کہ نو جون دو ہزار چھبیس تک پولیس کی کوششیں جاری تھیں تو اس کے بعد معاملہ کیوں رک گیا؟ ار پی او گوجرانوالہ نے عدالت کو بتایا کہ نو جون تک پیش رفت ٹھیک تھی، اس کے بعد بھی نئے ڈی پی او کی جانب سے کیس پر کام کیا گیا ہے۔دوران سماعت مبینہ لاپتہ شہری کی عدم بازیابی پر ایک خاتون عدالت میں روتی رہی، جس پر عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔وقفے کے بعد دوبارہ سماعت ہوئی تو جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ جب لاء اینڈ آرڈر ایجنسی پولیس کے خلاف ہی الزام لگ جائے تو یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ گجرات پولیس کا ہے، ڈی پی او اور ایس ایچ او کو کارکردگی دکھانی چاہیے تھی، مگر اب چار ماہ سے کیس میں کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ کچھ عرصہ کیس میں اچھی پیش رفت ہوئی، لیکن گزشتہ چار ماہ سے اس معاملے میں جمود آگیا ہے۔جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ہم سب اللہ کو جواب دہ ہیں، وہاں بھی عدالت لگے گی۔ مبینہ لاپتہ شہری کی ماں بھی اللہ کی عدالت میں یہ کہے گی کہ وہ اپنے بچے کے لیے دو سال تک پولیس اور عدالتوں کے چکر لگاتی رہی، اس کی فریاد نہیں سنی گئی۔ ہم اللہ کی عدالت میں اس ماں کو کیا جواب دیں گے؟عدالت نے پولیس حکام سے یہ بھی استفسار کیا کہ کیا تبدیل ہونے والا ڈی پی او عدالتی احکامات پر عملدرآمد کا ذمہ دار نہیں ہوتا؟ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ ایک افسر چھ ماہ کام کرے اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد بتائے بغیر تبدیل ہوجائے تو یہ طریقہ کار قابل قبول نہیں۔
عدالت نے ہدایت کی کہ اس بات کو بھی روکا جائے کہ نیا افسر تعینات ہو اور وہ کوئی نیا بہانہ بنائے۔ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو افسر کی تبدیلی کے ساتھ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری محمد نواز نے عدالت سے کیس میں مزید مہلت دینے کی استدعا کی۔ جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ یہ وقت آپ کی وجہ سے دیا جا رہا ہے، پولیس افسران پہلے ہی کافی وقت لے چکے ہیں۔عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری محمد نواز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بڑے ایماندار اور قابل افسر ہیں، تاہم اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جاسکتی۔لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی کے لیے پولیس کو مزید دو ہفتوں کی مہلت دیتے ہوئے حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر شہری کو ہر صورت بازیاب کرایا جائے۔عدالت نے مبینہ لاپتہ شہری کی بازیابی کیس کی مزید سماعت تین اکتوبر تک ملتوی کردی۔