سٹی42: معروف مصنف اور شاعر جاوید اختر نے بھارت میں طالبان حکومت کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کے پرتپاک استقبال پر سخت الفاظ میں تنقید کی ہے۔
افغانستان عبوری طالبان حکومت کے وزیر خارجہ ملامتقی بھارت کے 6 روزہ طویل دورے پر ہیں، جو طالبان حکومت کے کسی رہنما کا 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد بھارت کا پہلا دورہ ہے۔متقی نے نئی دہلی میں بھارتی ہم منصب جے شنکر سے ملاقات کی۔جس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے افغان وزیر خارجہ کو ایمبولینسز کا تحفہ دیا۔
متقی نے ریاست اترپردیش میں معروف دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کا بھی دورہ کیا۔
مصنف اور شاعر جاوید اختر نے افغان طالبان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی کو بھارت میں دیے گئے استقبال پر شدید ردِعمل دیا ہے۔
جاوید اختر نے ایکس پر کہا کہ افغان وزیر خارجہ کا بھارت میں استقبال دیکھ کر شرمندگی سے میرا سر جھک گیا ہے۔
جاوید اختر نے کہا کہ 'میرا سر شرم سے جھک گیا جب میں دیکھتا ہوں کہ طالبان جو دنیا کا سب سے خطرناک دہشت گرد گروہ ہے، ان کے نمائندے کو کس طرح عزت دی جا رہی اور اس کا استقبال کیا جا رہا ہے، وہ بھی ان لوگوں کی جانب سے جو ہر طرح کے دہشت گردوں کے خلاف تقریریں کرتے ہیں'۔
جاوید اختر نےدارالعلوم دیوبند پر بھی تنقید کرتےہوئے کہاکہ' شرم آتی ہے کہ دارالعلوم دیوبند نے ان کا استقبال کیا جنہوں نے لڑکیوں کی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ میرے ہندوستانی بھائیو اور بہنو!!! ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے'۔