سٹی42: حماس نے اسرائیل کے اپنی تحویل مین مرنے والے یرغمالیوں کی 28 لاشوں میں سے 4 لاشیں کل واپس کی ہیں جنہیں اسرائیل نے ناکافی قرار دیا اور رفح کراسنگ سے کل بدھ کے روز انسانی ہمدردی کی امداد کی ترسیل معاہدہ کے مطابق بڑھانے سے انکار کر دیا۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق یرغمالیوں کی 28 میں سے صرف چار لاشیں کل واپس کی گئیں۔ یرغمالیوں کی فیملیز کے فورم کا کہنا ہے کہ حماس کی جانب سے معاہدے کی صریح خلاف ورزی کی جا رہی ہے اور وہ اس کی مذمت کرتے ہیں۔
حماس نے اسرائیل کے تمام زندہ یرغمالی واپس بھیج دیئے ہیں لیکن 28 لاشوں کی واپسی آج بھی نہیں کی۔
یرغمالیوں اور لاپتہ خاندانوں کے فورم کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی 28 میں سے صرف چار لاشیں آج اسرائیل کو واپس کی گئیں۔ انہوں نے اسے حماس کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے کی "صاف خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔
گزشتہ روز اسرائیلی حکام کی جانب سے ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کے متعدد خاندانوں کو بتایا گیا تھا کہ ان کے پیاروں کی لاشیں آج یا کل واپس نہیں کی جائیں گی اور اسرائیل انہیں تلاش کرنے اور واپس کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ تاہم متعدد ذرائع نے عندیہ دیا تھا کہ ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کی اکثریت کو آج یا اس کے فوراً بعد واپس کر دیا جائے گا۔ عملاً ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
حماس نے شرم الشیخ معادہ ہونے سے پہلے خبردار کیا تھا کہ کچھ لاشوں کو تلاش کرنے میں دشواری ہوگی۔
یرغمالیوں کی فیملیز نے اس صورتحال پر کہا ہے کہ اسرائیل کی حکومت اور ثالث اس سنگین ناانصافی کو دور کرنے کے لیے فوری ایکشن لیں گے،" یہ "حیران کن اور مایوس کن" ہے۔
گروپ کا کہنا ہے کہ "ہلاک ہونے والے یرغمالیوں کے خاندان خاص طور پر گہرے دکھ سے بھرے مشکل دن برداشت کر رہے ہیں۔" "ہم کسی بھی یرغمالی کو نہیں چھوڑیں گے۔ ثالثوں کو معاہدے کی شرائط کو نافذ کرنا چاہیے۔"
اس سےپہلے کل، 20 زندہ یرغمالیوں کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کے تحت رہا کیا گیا، جو کل اسرائیل میں ہی موجود تھے۔