ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

شرم الشیخ معاہدہ: اسرائیل نے غزہ کو امداد کی ترسیل بڑھانے کی بجائے کم کرنےکااعلان کردیا

Sharam Alshaikh accord, humanitarian aid, Rafah Crossing, city42 hbaz Sharif, TRump, Nobel Peace Prize
کیپشن: انسانی ہمدردی کی امداد سے لدے ٹرک 12 اکتوبر 2025 کو رفح کراسنگ کے مصری کنارے پر کھڑے ہیں، جو غزہ کی پٹی تک رسائی حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔ (اے ایف پی)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  اسرائیل  نے کہا ہے کہ وہ حماس سے تمام یرغمالیوں کی لاشیں واپس ملنے تک رفح کراسنگ کو دوبارہ نہیں کھولے گا اور غزہ کے اندر جانے والی  امداد کو محدود کر دے گا۔ شرم الشیخ میں ہونے والے جنگ بندی معاہدہ کے تحت رفح کراسنگ سے  بڑے پیمانے پر امدادی سامان کی ترسیل کل شروع ہونا تھی لیکن آج ایک دن پہلے ہی اسرائیل نے کہہ دیا کہ وہ کل رفح کراسنگ کو امدادی سامان کی بڑے پیمانے پر تسیل کے لئے نہیں کھول رہا۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس نے بھی بتایا ہے کہ غزہ کے اندر بڑے پیمانے پر امدادی سامان بھیجنے کا سلسلہ ابھی تک شروع نہیں ہوا۔ 
عبرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل جنگ بندی معاہدے کے مطالبے کے مطابق کل رفح بارڈر کراسنگ کو دوبارہ نہیں کھولے گا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس کو غزہ میں اپنے زیر حراست تمام یرغمالیوں کی لاشوں کو واپس کرننا تھا، حماس  اپنے عزم پر قائم رہنے میں ناکام رہی ہے اور تمام لاشیں اب تک واپس نہیں کیں۔ 

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، اسرائیل حماس کے خلاف پابندیوں کے حصے کے طور پر غزہ کی پٹی میں امداد کے بہاؤ کو بھی محدود کر دے گا۔

لاشوں کی حوالگی میں کافی وقت لگ سکتا ہے، ریڈکراس

انٹرنیشنل امدادی تنظیم ریڈ کر اس کا کہنا ہے کہ غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل ابھی تک شروع نہیں ہو سکی ہے۔ 

عرب میڈیا کے مطابق ریڈ کراس کے ترجمان نے کہاکہ غزہ جنگ بندی کے بعد لاشوں  کی حوالگی بہت بڑاچیلنج ہے اور ریڈ کراس فریقین کو لاشوں  کی حوالگی میں سہولت دے گی۔ 

ترجمان ریڈکراس نے کہا کہ لاشوں کی واپسی سب سے پیچیدہ مرحلہ ہے اور اس میں کافی وقت بھی لگ سکتا ہے۔  غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد کی ترسیل ابھی تک شروع نہیں ہو سکی ہے۔ 

 ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ غزہ سے باہر میڈیکل کوریڈورزکی بحالی فوری طور پر ضروری ہے۔