سٹی42: سونا غریب آدمی کے لئے خواب بننے کے بعد اب متوسط طبقہ کی بھی رسائی سے باہر ہونے لگا؛ آج صرف ایک دن مین سونے کی فی تولہ قیمت 6900 روپے بڑھ گئی۔
سونے کی قیمت بین الاقوامی حالات کی وجہ سے مسلسل برھ رہی ہے۔ کل بھی سونے کی فی تولہ قیمت میں ساڑھے پانچ ہزار روپے فی تولہ کا اضافہ ہوا تھا۔
کراچی اور ملک بھر کے صرافہ بازار وں سے آنے والی رپورٹوں کے مطابق ملک بھر میں آج بھی سونے کی فی تولہ قیمت میں6900 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیولرز اینڈ ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 6900 روپے اضافے کے ساتھ 4 لاکھ 35 ہزار 100 روپے فی تولہ ہوگئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 5916 روپے اضافے کے ساتھ آج 3لاکھ73 ہزار 28 روپے ہوگئی۔
جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی بازار میں سونے کی قیمت میں بیک وقت 69 ڈالر فی اونس اضافہ ہوا ہے۔ آج انترنیشنل بلین مارکیٹ میں 24 قیراط سونے کا بھاؤ 69 ڈالر اضافے سے4140 ڈالر فی اونس ہو گیا ہے۔ اس اضافہ کا اثر پاکستان کی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔ سونے کی قیمت کل بھی بڑھنے کا قوی امکان ہے۔

مارکیٹ سورسز بتا رہے ہیں کہ ٹیرف وار نے دنیا کی تجارت ور مینوفیکچرنگ کے سیکٹرز میں اتھل پتھل کر دی ہے جس کے سبب کچھ ملکوں کی ایکسپورٹس اور مینوفیکچرنگ بیتھے بٹھائے کم ہو گئی ہے، انویسٹر اپنا سرمایہ مینوفیکچرنگ اور ٹریڈ سے نکال کر وقت طور پر سونے میں لگا رہے ہیں۔ سونے میں سرمایہ کاری نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں بڑھ رہی ہے۔
سرمایہ کاروں کی اس سیکٹر میں سرمایہ کاری سے ہی پہلے مرتبہ عالمی منڈی میں سونا 4 ہزار ڈالر فی اونس کی حد بھی عبور کر گیا ہے۔
عالمی تجارتی کشیدگی، جغرافیا ئی حالات کی وجہ سرمایہ کارواں میں بے چینی ہے جس کہ وجہ سے کاروباری لوگ سونے کی خریداری کے میدان میں دھڑا دھڑ آرہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عام شہری سیونگ کے لئے بینکوں میں رقم رکھنے یا سٹاک مارکیٹس میں رسکی انویسٹمنٹ کرنے سے زیادہ سونے میں انویسٹ کرنے کو آصان اور محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ سرمایہ کاروں کی خاص توجہ کے سبب ڈیمانڈ بڑھی ہے جب کہ پیداوار جو تھی وہی ہے۔ نتیجہ سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ کی صورت میں سامنے ٓ آ رہا ہے۔ اب توسونے نے ویلیو کے اعتبار سے پلاٹینم کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
آل پاکستان جیم اینڈ جیولرزایسوسی ایشن کے ماہرین کہتے ہیں کہ جب جب ڈالر کمزور ہوتا ہے تو دنیا میں سونے کی طلب بڑھتی ہے۔ ٹرمپ کی تجارتی جنگ سے ڈالر کمزور ہو رہا ہے اور سرمایہ کار ڈالر کی بجائے سونے کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔
سونا درمیانہ طبقہ کی بساط سے بھی باہر
لیکن سونے کی قیمت میں اضافہ کے مسلسل رجحان نے اسے پاکستان جیسے معاشروں میں پہلے غریب شہریوں کی دسترس سے دور کیا، اب متوسط طبقہ کے لئے بھی روایتی محفوظ ایسٹ کی حیثیت سے سونے کے زیورات خریدنے میں مشکل مھسوس کر رہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں اضافے کے اثرات سےمقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

سنار زیور کے خریداروں کی شکل دیکھنے کو ترس گئے
آج کل پاکستان میں شادیوں کا روایتی موسم ہے لیکن صرافہ بازاروں میں سنار زیوارات کے خریداروں کی شکل دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
پاکستان میں سونے کی بڑھتی قیمت کے اثرات سے متعلق جیولرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اب سونا شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے نہیں خریدا جاتا، سونے کے زیورات بننا بند ہو چکے ہیں، جیولرز بے روز گار ہو گئے ہیں اور جیولری کے 50 فیصد کارخانے بند ہو گئے ہیں کیونکہ پاکستان میں بھی صرف سرمایہ کار سونا خرید رہے ہیں۔

اب شادی بیاہ کے موقع پر متوسط طبقہ رولڈ گولڈ کے زیور سے کام چلا رہا ہے اور اثاثے بنانے کے لئے متوسط طبقہ کے لوگ چاندی میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ سونے کی قیمت میں سب سے زیادہ جیولرز پریشان ہیں کیونکہ ان کا بزنس ٹھپ ہو چکا ہے۔