ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ہائیکورٹ: آبائی جائیداد کی فروخت پر عائد ایک کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد سپر ٹیکس کالعدم قرار

لاہور ہائیکورٹ: آبائی جائیداد کی فروخت پر عائد ایک کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد سپر ٹیکس کالعدم قرار
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے آبائی جائیداد کی فروخت پر عائد ایک کروڑ 14 لاکھ روپے سے زائد سپر ٹیکس کالعدم قرار دیتے ہوئے ایف بی آر اور اپیلیٹ ٹریبونل ان لینڈ ریونیو کے احکامات بھی غیر قانونی قرار دے دیئے۔

جسٹس جواد حسن، اور جسٹس سردار اکبر علی پر مشتمل  دو رکنی بینچ نے  شہری خیراللہ خان کی درخواست پر 17 صفحات کا  تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں عدالت نے قرار دیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 37(1A) اور فرسٹ شیڈول کے تحت ایسی جائیداد پر ٹیکس کی شرح صفر فیصد مقرر ہے، لہٰذا اس آمدن پر سپر ٹیکس عائد نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ سپر ٹیکس صرف اسی آمدن پر لاگو ہوسکتا ہے جو قانون کے تحت قابلِ ٹیکس ہو، جبکہ صفر فیصد ٹیکس والی آمدن پر اضافی ٹیکس عائد کرنا قانون اور مقننہ کی نیت کے خلاف ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت کے ڈی جی خان سیمنٹ کیس سمیت سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ اگر کسی آمدن پر بنیادی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا تو اس پر سپر ٹیکس بھی عائد نہیں کیا جا سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ایف بی آر کا سرکلر قانون اور آئینی عدالتوں کے فیصلوں سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار کی آبائی جائیداد 1980 سے ملکیت میں تھی اور قانون کے مطابق اس پر ٹیکس کی شرح صفر فیصد بنتی ہے، اس لیے سپر ٹیکس کی وصولی غیر قانونی ہے۔ عدالت نے ایف بی آر کی جانب سے جاری سپر ٹیکس ڈیمانڈ اور اپیلیٹ ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست منظور کر لی۔

عدالت کے روبرو موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار نے ٹیکس سال 2024 میں آبائی جائیداد فروخت کرنے سے حاصل ہونے والی رقم ظاہر کی تھی، تاہم ایف بی آر نے اس پر سپر ٹیکس عائد کرتے ہوئے ایک کروڑ 14 لاکھ 15 ہزار 822 روپے کی ڈیمانڈ جاری کردی۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ متعلقہ جائیداد کئی دہائیوں سے ملکیت میں تھی اور قانون کے مطابق چھ سال سے زائد عرصہ تک رکھی گئی غیر منقولہ جائیداد کی فروخت پر ٹیکس کی شرح صفر فیصد ہے، اس لیے سپر ٹیکس بھی لاگو نہیں ہوسکتا۔