ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے شہر کے 56 پارکس میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور سے واپس لے کر پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ تمام پارکس فوری طور پر واگزار کروا کر پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے سپرد کیے جائیں۔
جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے منصوبوں اور شجر کاری سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ ڈائریکٹر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر ہسپتال کے قریب نظریہ پاکستان روڈ پر موجود غیر ضروری راستے بند کیے جائیں گے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے۔اس پر جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ ٹریفک کی روانی کے لیے مناسب روڈ انجنئیرنگ منصوبہ بندی نہایت ضروری ہے۔ ، ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جوہر آباد میں بننے والی سڑک کو دوبارہ ڈیزائن کر کے گیارہ ہزار درختوں کو کٹنے سے بچا لیا گیا ہے۔ جسٹس شاہد کریم نے اس اقدام کو ماحول کے تحفظ کے لیے جوڈیشل کمیشن کی بڑی کامیابی قرار دیا۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ کہ 56 پارکس جو میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کی ملکیت ہیں، انہیں فوری طور پر پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کو منتقل کیا جانا چاہیے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈپٹی کمشنر فوری طور پر یہ پارکس پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے حوالے کریں، وکیل اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا کہ ماحولیاتی تحفظ کا ادارہ مختلف مقامات پر درخت کاٹنے کے لیے نوٹس جاری کر رہا ہے۔ اس پر جسٹس شاہد کریم نے پنجاب حکومت کے لاء افسر کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ کسی بھی محکمہ کو درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔،سماعت میں ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز سمیت مختلف محکموں کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 مئی تک ملتوی کر دی۔