ویب ڈیسک:امریکی عدالت نے چیئرمین فیڈرل ریزرو جیروم پاؤل کے خلاف جاری حکومتی تحقیقات کو روک دیا ہے، جس سے صدر ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کو دھچکا پہنچا۔
بین الاقوامی میڈیا کرپورٹس کے مطابق وفاقی عدالت نے محکمہ انصاف کی جانب سے جیروم پاؤل کو جاری کیے گئے سمن بھی منسوخ کر دیے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومت نے سیاسی مقاصد کے لیے مرکزی بینک پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جبکہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے شرح سود میں کمی کرانے کے لیے فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کو ہدف بنایا۔
جج کے مطابق جیروم پاؤل کے خلاف تحقیقات کی قانونی بنیاد موجود نہیں تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے صدر ٹرمپ کی معاشی اصلاحات اور پالیسیوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس دوران امریکی سینیٹرز کے اعتراضات کے باعث نئے چیئرمین فیڈرل ریزرو کی تعیناتی کا عمل پہلے ہی تاخیر کا شکار ہے۔
اس معاملے پر پاکستانی نژاد امریکی رہنماؤں کی آراء بھی منقسم ہیں۔ ساجد تارڑ کے مطابق جیروم پاؤل جان بوجھ کر صدر ٹرمپ کی معاشی اصلاحات میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جبکہ ڈاکٹر آصف ریاض قدیر نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل ریزرو جیسے خود مختار ادارے پر حکومت کا دباؤ غیر قانونی ہے۔