ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

امجد صابری کے آخری غسل کی حیران کن تفصیلات منظرِ عام پر آگئی

امجد صابری کے آخری غسل کی حیران کن تفصیلات منظرِ عام پر آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:  پاکستان کے مشہور قوال امجد صابری کی وفات کے بعد آخری غسل کے حوالے سے حیران کن تفصیلات منظرِ عام پر آگئیں۔

امجد صابری کی اچانک اور افسوسناک وفات ان کے مداحوں کے لیے ایک صدمہ تھی۔ مشہور قوال کے آخری غسل کی تفصیلات چھیپا فاؤنڈیشن کے مالک رمضان چھیپا نے 9 سال بعد سب کے ساتھ شیئر کی ہیں جو سب کو حیران کر گئی ہیں۔

رمضان چھیپا نے کہا کہ 'جب بھی میں مردوں کا غسل دیتا ہوں میں مختلف واقعات دیکھتا ہوں۔ مثال کے طور پر جب میں امجد صابری کو غسل دے رہا تھا تو میں ایک لمحے کے لیے رک گیا اور غسل سے پیچھے ہٹ گیا کیونکہ اچانک وہ مسکرانے لگے تھے۔'

انہوں نے بتایا کہ 'میں کانپ رہا تھا، میں نے ان کے خاندان کو بلایا اور انہیں دکھایا، ان سب نے یہ دیکھا اور ان کے لیے دعائیں کرنا شروع کر دیں۔'

رمضان چھیپا نے کہا کہ 'اللہ ہی جانتا ہے کہ اس طرح کے واقعات کے پیچھے حقیقت کیا ہے، لیکن ہم اکثر مختلف چیزیں دیکھتے ہیں، کبھی تو ہم مردوں کو تکلیف میں بھی دیکھتے ہیں، اللہ کبھی کبھار ہمیں ایسی نشانیاں دکھاتا ہے۔'

رمضان چھیپا کی جانب سے امجد صابری کے آخری غسل کے حوالے سے کیا گیا یہ انکشاف سوشل میڈیا صارفین کے تبصروں کا مرکز بن چکا ہے اور صارفین اس بارے میں بات کرتے کے ساتھ ساتھ اپنے عزیز و اقارب میں بھی ایسے ہی پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے بھی دکھ رہے ہیں۔

جہاں متعدد سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہے کہ امجد صابری ایک معصوم روح تھے جنہیں ایک افسوسناک تقدیر کا سامنا ہوا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی موت کے بعد وہ یقیناً بہتر جگہ پر ہوں گے' وہیں بعض صارفین نے رمضان چھیپا کی جانب سے اس واقعہ کو شیئر کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ نے یہ بھی کہا کہ 'وہ جھوٹ بول رہے ہیں'۔ ایک صارف نے لکھا کہ 'بے شک اچھے اور نیک لوگوں کا دنیا میں ہی پتا چل جاتا ہے' جبکہ دوسرے  صارف نے لکھا کہ ' بھائی جو چیز ممکن نہ ہو تو وہ بولا نہ کریں، مرنے کے بعد ہمارا اللہ پاک بہتر جانتا ہے لیکن کوئی مر جائے تو اسکا کوئی حرکت کرنا ممکن نہیں ہے'۔

ایک صارف نے لکھا کہ 'چھیپا صاحب جو میت کو ٖسل دیتا ہے وہ رازدار ہوتا ہے، غسل میں جیسے بھی معاملات ہوتے ہیں انہیں افشاں نہیں کیا جاتا ہے، مختلف احادیث میں ایسا ہی ہے، میں بھی پڑھا ہے اور سنا بھی ہے'۔

یاد رہے کہ امجد صابری نو برس قبل 22 جون کو رمضان المبارک کے دوران ایک نجی ٹی وی چینل کی ٹرانسمیشن میں شرکت کے لیے جارہے تھے کہ نامعلوم حملہ آوروں نے انہیں گولی مار کر قتل کردیا گیا تھا۔ان کی عمر اس وقت تقریباً 39 سال تھی اور وہ اپنے پیچھے  پانچ بچوں اور ایک بیوی کو سوگواران میں چھوڑ گئے ہیں۔ 

معروف قوال امجد صابری کو دنیائے فانی سے بچھڑے 9 برس بیت گئے لیکن ان کی دل لبھانے اور سحر طاری کرنے والی آواز آج بھی مداح نہیں بھولے۔امجد صابری نے 23 دسمبر 1976 کو کراچی میں معروف قوال صابری گھرانے میں آنکھ کھولی، ان کے والد غلام فرید صابری بھی قوالی کی دنیا کا مشہور نام تھے۔امجد صابری نے 1988 میں فنی سفر کا آغاز کیا اور اپنی بہترین آواز اور انفرادیت کی وجہ سے سب کے دلوں میں گھر کرلیا۔امجد صابری نے نہ صرف پاکستان میں قوالیوں کو جلا بخشی بلکہ لندن، امریکا اور بھارت تک میں اپنی آواز کا جادو بکھیرا۔