ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

علی ظفر  کی کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں تاریخی ہجوم کے سامنے زبردست پرفارمنس

علی ظفر  کی کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں تاریخی ہجوم کے سامنے زبردست پرفارمنس
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(زین مدنی) پاکستان کے سپر اسٹار گلوکار علی ظفر نے ہفتہ کی شب کینیڈا کے شہر مسی ساگا کے سیلیبریشن اسکوائر میں ایک ریکارڈ ساز ہجوم کے سامنے پرفارم کیا، جہاں اندازاً 45 ہزار افراد نے شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق شرکاء کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ہجوم سیلیبریشن اسکوائر سے باہر نکل کر اطراف کے علاقوں تک پھیل گیا۔ اضافی رش کے باعث ڈیوک آف یارک بلیوارڈ اور قریبی لیونگ آرٹس سینٹر کے بعض حصے بھی بند کرنا پڑے۔ منتظمین نے اسے سیلیبریشن اسکوائر کی تاریخ کا سب سے بڑا کنسرٹ قرار دیا۔ یہ شاندار شو علی ظفر کے شمالی امریکا میں جاری "روشنی ٹور 2026" کی اختتامی تقریب تھا۔
یہ مفت اور اوپن ایئر کنسرٹ گریٹر ٹورنٹو ایریا میں جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے متنوع اور کثیر النسلی اجتماع کی ایک منفرد مثال بن گیا۔ بچوں، نوجوانوں، خاندانوں، پیشہ ور افراد اور بزرگوں سمیت پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور دیگر جنوبی ایشیائی برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ خاندانوں، طلبہ اور کمیونٹی گروپس نے اسکوائر اور اردگرد کی سڑکوں کو بھر دیا اور پوری رات موسیقی پر جھومتے رہے۔
علی ظفر نے تقریباً دو گھنٹے تک پرفارم کرتے ہوئے شو کا آغاز اپنے مقبول گیت "رنگین" سے کیا اور بیس سے زائد گانوں پر مشتمل طویل سیٹ لسٹ پیش کی۔ ان کے نئے البم "روشنی" کے گیتوں، جن میں "روشنی"، "ماما سیتا" اور "رخسانہ" شامل ہیں، کو پہلی بار براہِ راست پیش کیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے مشہور ترین گیت "چنوں"، "مستی" اور "چل دل میرے" سمیت متعدد بالی ووڈ اور علاقائی ہٹ گانے بھی سنائے۔

شام کا ایک یادگار لمحہ اس وقت آیا جب علی ظفر نے اپنا مقبول گیت "جھوم" پیش کیا۔ گیت کے دوران ہزاروں شائقین نے اپنے موبائل فونز کی روشنیاں فضا میں بلند کر دیں، جس سے پورا سیلیبریشن اسکوائر روشنیوں کے سمندر میں تبدیل ہو گیا۔ بعد ازاں علی ظفر اسٹیج سے اتر کر حاضرین کے درمیان پہنچ گئے، جس پر پورا مجمع جوش و خروش سے گونج اٹھا۔
موسیقی کے علاوہ علی ظفر نے حاضرین سے اتحاد، شناخت اور باہمی احترام کے موضوعات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے نسل، مذہب اور پس منظر سے بالاتر ہو کر انسانیت کو ایک قرار دیا اور جنوبی ایشیائی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ثقافت اور جڑوں پر فخر کرے۔ انہوں نے خواتین کی آزادی، بچوں کے اپنے خوابوں کے تعاقب کے حق اور والدین و بچوں کے درمیان محبت و احترام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
علی ظفر نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا: "ہم سب ایک ہی انسانیت کا حصہ ہیں۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں رہیں، اپنی جڑیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور ہمیں ان پر فخر ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کے انتخاب کا احترام ہی ہمیں جوڑے رکھتا ہے۔ ہماری خواتین کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی، ہمارے بچوں کو اپنے خوابوں کی تکمیل کا حق اور والدین و اولاد کے درمیان محبت، یہ سب موسیقی سے الگ نہیں بلکہ یہی موسیقی کا اصل پیغام ہیں۔"
کنسرٹ کے اختتام پر حاضرین نے گانوں کے ساتھ بھرپور انداز میں گنگنا کر اور رقص کرتے ہوئے اس یادگار رات کو الوداع کہا۔ شرکاء نے اس تقریب کو تاریخی قرار دیا۔
علی ظفر اب اپنے بین الاقوامی ٹور کے دوسرے مرحلے کا آغاز کریں گے جو اگست اور اکتوبر تک جاری رہے گا، جبکہ مزید شہروں کا اعلان جلد متوقع ہے۔