ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے لگژری گھڑیاں پگھلائی جانے لگیں

سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے سے لگژری گھڑیاں پگھلائی جانے لگیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے نے عالمی لگژری واچ مارکیٹ میں ایک نیا رجحان پیدا کر دیا ہے، جہاں بعض قیمتی اور پرانی سونے کی گھڑیوں کو فروخت کرنے کے بجائے پگھلا کر ان میں موجود سونا نکالا جا رہا ہے۔

 بین الاقوامی خبر رساں ادارے  کی رپورٹ کے مطابق سونے کی قیمتیں حالیہ مہینوں میں ریکارڈ سطح تک پہنچنے کے بعد کئی ایسی مشہور گھڑیوں کی دھات کی مالیت ان کی مارکیٹ قیمت سے زیادہ ہو گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث بعض ڈیلرز اور سرمایہ کار پرانی سونے کی گھڑیوں کو نیلام کرنے کے بجائے بھٹی میں پگھلا رہے ہیں۔

 رپورٹ کے مطابق برطانوی ڈیلر جون وائٹ نے حال ہی میں 1970 کی دہائی کی ایک سونے کی اومیگا کانسٹیلیشن گھڑی پگھلا دی، کیونکہ اس میں موجود سونے کی مالیت تقریباً 5,750 پاؤنڈ تھی جبکہ نیلامی میں اس کی متوقع قیمت 4,000 سے 4,500 پاؤنڈ کے درمیان تھی۔

 ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیگا، ٹیگ ہیور اور دیگر درمیانی درجے کے لگژری برانڈز کی سونے کی گھڑیاں اس رجحان سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ رولیکس اور پیٹیک فلپ جیسے اعلیٰ برانڈز کی گھڑیاں اپنی نایابی اور زیادہ طلب کے باعث اب بھی پگھلانے کے بجائے کلیکٹرز کے لیے پرکشش سرمایہ کاری سمجھی جاتی ہیں۔

 تاریخی گھڑیوں کے ماہرین نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کئی نایاب اور کلاسک گھڑیاں ہمیشہ کے لیے ختم ہو رہی ہیں۔ ان کے مطابق ایک بار گھڑی پگھل جائے تو اس کی تاریخی، ثقافتی اور فنی اہمیت بھی ہمیشہ کے لیے ضائع ہو جاتی ہے۔

 دوسری جانب سرمایہ کاروں کا مؤقف ہے کہ جب سونے کی قیمت گھڑی کی مارکیٹ ویلیو سے زیادہ ہو جائے تو اسے پگھلانا معاشی لحاظ سے زیادہ منافع بخش فیصلہ بن جاتا ہے۔

 ماہرین کے مطابق اگر سونے کی قیمتیں بلند رہیں تو آنے والے مہینوں میں مزید پرانی لگژری گھڑیاں پگھلائے جانے کا امکان ہے، جس سے نایاب اور اصل حالت میں محفوظ گھڑیوں کی تعداد مزید کم ہو سکتی ہے۔