ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پھر پر لگ گئے

 آبنائے ہرمز میں کشیدگی، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پھر پر لگ گئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک :امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں جاری فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تقریباً چار ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

 برینٹ خام تیل کی قیمت 1.68 ڈالر یا 2 فیصد اضافے کے بعد85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 1.65 ڈالر یا 2.1 فیصد اضافے کے ساتھ 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا،مربن خام تیل کی قیمت بڑھ کر 80.57 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

  گزشتہ سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 9.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مئی 2020 کے بعد ایک روز میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق عمانی سمندری حدود میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے پر دو اماراتی آئل ٹینکرز کو ایرانی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی عملہ رکن ہلاک جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

 دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا نے ایرانی بحری نقل و حمل کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جن ممالک کے مفادات کا تحفظ کیا جا رہا ہے، انہیں اس کی قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔

 ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی بحالی اور ایران کے جوابی اقدامات نے عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے  اگرچہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند نہیں ہوئی، تاہم دونوں ممالک کی کارروائیوں نے تیل کی رسد سے متعلق خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔

 ادھر امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران پر مسلسل تیسری رات بھی حملوں کی تصدیق کی، جبکہ ایرانی میڈیا کے مطابق بندرِ عباس میں سات اور جزیرہ کیش میں دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

 علاوہ ازیں، یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملوں کا دعویٰ کیا ہے،حوثیوں کا الزام ہے کہ سعودی عرب نے ان کے زیرِ کنٹرول ایک ہوائی اڈے پر بمباری کی جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حوثیوں نے بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی ترسیل کو بھی نشانہ بنایا تو خطے سے خام تیل کی فراہمی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

 دریں اثنا، ابتدائی سروے کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل کے ذخائر میں کمی جبکہ پیٹرول اور ڈیزل کے ذخائر میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔