"عدلیہ اگزیکٹو کی باندی بن جائے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے"

(ملک اشرف) لاہور ہائیکورٹ نے سول جج ساہیوال اور اسسٹنٹ کمشنر کے تنازع سے متعلق درخواست پر  چیئرمین پیمرا،  چیف سیکرٹری پنجاب سمیت دیگر حکام کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ حکومتیں چاہتی ہیں کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں ہم آہنگی ہو۔اگر ایسا ہوا تو عدلیہ اگزیکٹو کی باندی بن جائے گی ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

*چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے سول جج اور اسسٹنٹ کمشنر کے تنازعے کے متعلق مقامی وکیل کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد آصف بھٹی  نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور چیف سیکرٹری پنجاب اور دیگر افسران  کی جانب سے جواب جمع کروایا لیکن وہ عدالت کو مطمن نہ کرسکے۔

چیف جسٹس محمد قاسم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا حکومتوں کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ عدلیہ اور ایگزیکٹو میں ہم آہنگی ہو، جس دن ایسا ہوگیا کہ تو عدلیہ ایگزیکٹو کی باندی بن جائے گی۔ ہم جو یہاں بیٹھے ہیں ایسا نہیں ہونے دیں گے ۔ سرکاری وکیل آصف بھٹی نے جواب دیا افسران نے سول جج کے معاملے پر ہڑتال نہیں کی۔

چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پھر میڈیامیں جو ہڑتال کی خبریں چلیں وہ کون لوگ تھے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ نادرا سے تصدیق کرکے رپورٹ دیں کہ احتجاج کرنیوالے کون تھے اور بینرز اٹھانے والے ملازمین کی تصویریں پیش کی جائیں. چیف  جسٹس نے کہا عدلیہ کے بارے میں جو فقرہ لکھا گیا ہے کیا وہ درست ہیں؟ کیا جواب میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کیا وہ توہین عدالت کے زمرے میں  نہیں آتے ؟ 

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ مشکل سا لفظ انہوں نے لکھ دیا کہ جج صاحب کو کون سا پتہ چلنا ہے. ان الفاظ کے کا معانی گھوڑے اور گاڑی کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں.  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مطلب انتظامیہ گھوڑا اور گاڑی اس کے پیچھے چلے، کیا یہ فقرہ توہین عدالت کے زمرے میں نہیں آتا؟

چیف جسٹس نے قرار دیا کہ جو چینلز پر بیٹھ کر تبصرے کرتے ہیں ان کو اس قانون پتہ ہی نہیں ہوتا، تبصرہ کرنیوالوں کو پتہ ہی نہیں ہوتا اس نقطے پر اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے کون سے آئے ہیں. چیف جسٹس نے افسوس کا اظہار کیا کہ جو سیاسی لیڈر چاہتا ہے وہ انٹرویوز میں عدلیہ کے بارے میں جو چاہے کہہ دیتا ہے.