وسیم عظمت:لاہور پولیس آپریشن ونگ کے افسر ہر جمعے کو نماز جمعہ کے بعد مسجدوں میں کھلی کچہریاں لگائیں گے۔ لاہور میں جرائم ہر گلی میں ہو رہے ہیں لیکن پولیس کے اہلکار جرائم پیشہ گروہوں اور افراد کی سرگرمیوں سے آنکھ بند کئے ادھر ادھر گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس کے افسران کی کھلی کچہریوں سے موہوم توقع کی جا رہی ہے کہ شاید انہیں ہر گلی میں ہونے والے جرائم کے متعلق کچھ علم ہو جائے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنی حکومت کے ایک سال کے دوران پنجاب پولیس کی "حوصلہ افزائی"، پولیس اہلکاروں کے اعتماد کو بڑھانے کے لئے حتیٰ کہ خود بھی پولیس کی وردی پہن لی۔ مریم نواز کی ہر ممکن حوصہ افزائی اور تعاون کے باوجود لاہور میں جرائم بدستور جاری ہیں۔ اس دوران وزیراعلیٰ مریم نواز اپنی دوسری سیکنڑوں ذمہ داریوں مین بری طرح الجھ چکی ہیں۔ لاہور کے شہری منظم جرائم پیشہ گروہوں کی سرگرمیوں کو دیکھ کر کڑھتے ہیں لیکن وہ پولیس کی بے عملی کی شکایت نہیں کرتے بلکہ مریم نواز کی ہی گورننس میں کیڑے نکالتے ہیں۔
کھلی کچہریاں مختلف تھانوں کی حدود میں جامع مساجد میں لگیں گی۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران جامع مسجد انوار المصطفی جوہر ٹاؤن میں کھلی کچہری کریں گے۔تمام ایس پی، ایس ڈی پی او ، ایس ایچ او اپنے علاقوں میں کھلی کچہریاں لگائیں گے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق عوام کے مسائل، شکایات اور تجاویز ان کی دہلیز پر جا کر سنی جائیں گی،فیصل کامران کہتے ہیں کہ پولیس عوام میں بیٹھ کر ہی ان کا اعتماد جیت سکتی ہے۔ شہریوں کو اعتماد ہونا چاہیے ان کی شکایت پر ہر صورت ایکشن ہو گا۔
شہری حیران ہیں کہ پولیس کو جرائم پیشہ گروہوں مثلاً منشیات بیچنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے عوام کی شکایتوں کا ہی کیوں انتظار ہے۔ ان گروہوں کی سرگرمیاں تو سادہ کپڑوں میں کسی محلے کے دو چکر لگا کر کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔
فیصل کامران نے جمعہ کچہریوں کے حوالے سےیقین دلایا ہے کہ شکایت شہری کے خلاف ہو یا پولیس کے، کارروائی لازمی ہو گی،کھلی کچہری شکایات پر عمل درآمد کی پڑتال کے لیے سپیشل سیل قائم کیا گیا ہے،فیصل کامران نے مزید کہا، کسی شکایت پر ایکشن نہ ہو تو شہری براہ راست میرے پاس آئیں۔