ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

عمران:جیل میں کب تک

حروف : نوید چودھری 

عمران:جیل میں کب تک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

اپنی خوشی سے جیل کون کاٹتا ہے؟ وہ بھی ایسے ماحول میں جب یہ پتہ ہی نہ ہو کہ کب تک قید رہنا پڑے گا ،عمران خان کو جیل گئے دو سال ہو گئے۔

 5اگست کو احتجاج کی کال بُری طرح ناکام ہو گئی، 14 اگست کی کال کا بھی یہی حشر ہو گا،احتجاج کی کال دینے کا واحد مقصد عمران خان کی رہائی ہے  یعنی عمران خان تنگ آ چکے ہیں اور اب مزید جیل میں نہیں رہنا چاہتے، گرفتاری کے وقت ان کو اندرون و بیرون ملک کئی حلقوں سے امیدیں تھیں کہ وہ دباؤ ڈال کر یا اثر و رسوخ استعمال کر کے باہر آ جائیں گے۔

 اس حوالے سے کوششیں بھی بہت ہوئیں لیکن کامیابی نہیں ملی، ریاستی نظام اور عدلیہ کے اندر موجود پی ٹی آئی کے حامی عناصر کو وقت گزرنے کے ساتھ سائیڈ لائن کرنے کا سلسلہ جاری رہا،امریکہ اور خصوصاً صدر ٹرمپ سے جو توقع لگائی گئی تھی وہ بھی سراب ثابت ہوئی، قاسم اور سلمان کی لندن سے واشنگٹن تک یاترا اس بات کا اعتراف ہے کہ اب گولڈ سمتھ ہاؤس کا اعتماد بھی ڈگمگا رہا ہے۔

 اسٹیبلشمنٹ کے تربیت یافتہ پی ٹی آئی کے یوٹیوبرز وہ واحد گروہ ہیں جو حقیقتِ حال سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود یہ گمراہی پھیلانے پر لگے ہوئے ہیں کہ کپتان آج باہر آیا یا کل آ جائے گا، ظاہر ہے، ان کا جھوٹ بکتا ہے تو ڈالر آتے ہیں، سچ بولیں گے تو کمائی بڑی حد تک بند ہو جائے گی، ویسے اب پی ٹی آئی کے حامیوں کو بھی اندازہ ہو چکا ہے کہ ان کے لیڈر کی رہائی کا معاملہ ہنوز دلی دور است والا ہے، بعض حلقوں کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے سامنے سرنڈر کر دیں تو ان کے سارے مسائل ختم ہو جائیں گے،یہ محض خام خیالی ہے۔

 خصوصاً 9 مئی کے واقعات کے بانی پی ٹی آئی کو جو سب سے بڑی رعایت دی جا سکتی ہے وہ اس حد تک ہی ہو سکتی ہے کہ بنی گالہ محل کو سب جیل قرار دے کر وہاں منتقل کر دیا جائے  لیکن یہ سوال پھر بھی برقرار رہے گا کہ وہاں گھر والی سہولتیں دستیاب ہوں گی یا پھر ویسے ہی ایک کمرے میں بند رکھا جائے گا جیسے بشریٰ بی بی کو رکھا گیا تھا، کھڑکی کے شیشوں پر بلیک پیپر لگا کر سورج کی روشنی روک دی گئی تھی،ماحول ایسا تھا کہ بشریٰ بی بی نے گھبرا کر خود ہی مطالبہ کر دیا کہ اس سے تو بہتر ہے انہیں واپس اڈیالہ جیل میں بھیج دیا جائے،آج کے دن تک اس کا شائبہ تک نہیں کہ عمران خان کو این آر او کی پیشکش کی گئی ہے، وہ خود ہی کہہ دیتے ہیں کہ بات کریں گے تو صرف فوج کی قیادت سے کریں گے،وہاں سے جواب نہیں آتا تو پھر فیلڈ مارشل کو زبانی حملوں کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

  ان کی گرفتاری سے اب تک یہی سلسلہ چلتا آ رہا ہے،بھارت سے جنگ جیتنے اور فیلڈ مارشل کے اعزاز میں امریکی صدر کے ظہرانے جیسے بڑے واقعات کے بعد یوں تو حالات سب کے لیے بدل رہے ہیں مگر بانی پی ٹی آئی تو بالکل ہی پھنس کر رہ گئے ہیں،قید کاٹنے میں پی ایچ ڈی کرنے والے صدر آصف زرداری کی ماہرانہ رائے ہے کہ اصل جیل تو دو سال کے بعد محسوس ہونا شروع ہوتی ہے،عمران خان پر اب اسی وقت کا آغاز ہو چکا ہے،اپنی تمام تر دھمکیوں اور بلند و بانگ دعوؤں کے باوجود وہ پہلے ہی سے وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈاپور کے ذریعے راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آنے والے دنوں میں ایسا ہی رول شاہ محمود قریشی کو ملنے کے امکانات واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

  افواہیں اپنی جگہ مگر بڑی بڑی چھوڑنے والوں میں حکومتی شخصیات بھی شامل ہیں،وفاقی کابینہ کے ایک غیر ضروری رکن نے پچھلے دنوں ایک ٹی وی شو میں دعویٰ کیا کہ عمران خان کو ملک چھوڑنے کے لیے خلیجی ممالک جانے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن وہ برطانیہ جانا چاہتے تھے، اس لیے بات بن نہ سکی،سادہ سی بات ہے کہ عمران خان نہ نواز شریف ہیں، نہ بے نظیر بھٹو، نہ ہی عرب ممالک کوئی جیل ہیں کہ جس کو جی چاہا بھجوا دیا۔

  سعودی عرب یا متحدہ عرب امارات میں بھی ان شخصیات کو رہنے کا موقع دیا جاتا ہے جن کے بارے میں ان حکومتوں کی رائے مثبت ہو،رہ گیا برطانیہ تو اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، کسی کو کیا پڑی ہے کہ ایک ایسے کریکٹر کو سیاسی و غیر سیاسی حملے کرنے کے لیے کھلا چھوڑ دے جو یوٹرن کو سب سے بڑا اصول مانتا ہے اور کوئی بھی اس کی گارنٹی دینے پر تیار نہیں،عمران خان کی وزارتِ عظمیٰ سے فراغت سے لے کر گرفتاری اور سزاؤں تک کسی ایک افسر کی منشا نہیں بلکہ ادارے کے فیصلے ہیں، اپنے دورِ حکومت کے دوران اور پھر اس کے بعد جو کچھ عمران خان کر چکے ہیں اس سے ان کی اقتدار میں واپسی کے راستے بڑی حد تک ہمیشہ کے لیے بند ہو چکے ہیں اگر انہیں سزاؤں میں کچھ رعایت ملنی ہے تو اس کا امکان بھی کم از کم دو سال بعد پیدا ہو سکتا ہے، اسٹیبلشمنٹ کو یقینی طور پر پی ٹی آئی کی بھی ضرورت ہے لیکن پارٹی کے اگلے کردار کا تعین ان کی اپنی مرضی کے عہدیدار کریں گے۔

  مختصر یہ کہ عمران خان تو چھٹکارا چاہتے ہیں لیکن اسٹیبلشمنٹ ایسا نہیں چاہتی اور اب تو اسے کوئی ضرورت ہی محسوس نہیں ہو رہی، بعض تجزیہ کار خود کو جمہوریت پسند ظاہر کرنے کے لیے کہہ دیتے ہیں کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کرنے کے لیے حکومت کو پہل کرنی چاہیے، وہ آگے بڑھے اور بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کرے، کیا کمال کی سادگی ہے کہ سول حکومت اسٹیبلشمنٹ کی اجازت کے بغیر عمران خان سے مذاکرات کرے اور خود بیٹھے بٹھائے عدم استحکام سے دوچار ہو جائے۔