ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے تھیٹروں اور ڈرامہ ہالز پر پیرافورس کے چھاپوں کیخلاف درخواست پر چیف سیکرٹری پنجاب کو کل تک جواب جمع کرانے کی مہلت دے دی۔
جسٹس احمد ندیم ارشد نے شہری صابر علی سمیت دیگر تھیٹر ٹھیکیداروں کی درخواست پر سماعت کی،درخواستگزاروں کی طرف میاں دائود ایڈووکیٹ پیش ہوئے، سرکاری وکیل نے استدعا کی کہ انہیں جواب کے لئے مہلت دے دیں ، درخواست گزار وکیل کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ہم حکومت کے نوٹیفائیڈ اوقات کار رات 11 تا 1 بجے تک کام کرنا چاہتے ہیں، پھر بھی کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے، حکومت نے خود تھیٹروں اور ڈرامہ ہالز کا وقت رات 11 بجے تا 1 بجے تک مقرر رکھا ہے، تھیٹر اور ڈرامہ ہالز 2 گھنٹوں کے علاوہ بجلی و دیگر وسائل استعمال ہی نہیں کرتے، وکیل درخواستگزار کے مطابق موجودہ کفایت شعاری مہم کے تحت بھی حکومت نے تھیٹروں اور ڈرامہ ہالز پر کوئی پابندی عائد نہیں کی، پابندی عائد نہ کرنے کی وجہ تھیٹروں اور ڈرامہ ہالز کا ازخود کفایت شعاری مہم سے استثنی ہے، حکومت نے پابندی اسی لئے نہیں لگائی کہ تھیٹر مالکان بجلی اور دیگر وسائل کے بے جا ضیاع کے ذمرے میں ہی نہیں آتے،پابندی نہ ہونے کے باوجود پولیس اور پیرافورس زبانی حکم کے تحت چھاپے مار رہی ہیں، پولیس اور پیرافورس چھاپوں کے تحت تھیٹروں اور ڈرامہ ہالز سیل جاتی ہے، پولیس اور پیرافورس کے غیرقانونی، غیرمجاز چھاپوں کی وجہ سے کاروبار کا نقصان ہو رہا ہے، وکیل درخواستگزار کی جانب سے استدعا کی گئی کہ لاہور ہائیکورٹ پیرافورس اور پولیس کو تھیٹروں اور ڈرامہ ہالز پر چھاپوں اور سیل کرنے سے روکے، مزید استدعا کی گئی کہتھیٹروں اور ڈرامہ ہالز کیخلاف پیرافورس اور پولیس کے چھاپے غیرقانونی قرار دیئے جائیں۔