سٹی42: بھارت کی حالیہ جارحیت کے دوران وطن کے دفاع کے لئے لڑتے ہوئے 11 وردی پوش پاکستانی شہید ہوئے۔ شہید فوجیوں میں سے 6 پاکستان آرمی کے ہیں اور 5 پاکستان ائیرفورس کے ہیں۔معرکہَ حق کے دوران 78 سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
منگل کے روز آئی ایس پی آر نے انڈیا کی جارھیت کے دوران ہونے والے جانی نقصان کا اپ ڈیٹ قوم کے ساتھ شئیر کیا۔ آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بھارت کی جارحیت کی ابتدا میں 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات چھ مقامات پر حملوں اور لائن آف کنٹرول پر جارحیت کے دوران 40 سویلین پاکستانی شہید ہوئے۔ ان شہید ہونے والوں میں 7 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں۔ 27 بچوں اور 10 خواتین سمیت 121 افراد زخمی ہوئے۔
معرکہِ حق کے دوران شہید ہونے والے سویلین شہریوں کا بے سبب بلا جواز خون بہانے پر پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے دشمن کو سخت سزا دینے کا حتمی فیصلہ کیا، آرمی اور ائیر فورس کی فارمیشنز صرف دو ہی منٹ میں جوب دینے کے لئے حرکت میں آئیں۔ ائیر فورس نے دشمن کے چھ بمبار طیاروں کو زمین پر گرایا اور آرمی نے کشمیر میں بریگیڈ ہیڈکوارٹر سمیت دشمن آرمی کی کئی اہم تنصیبات کو تباہ کیا۔ پاکستان آرمی نے ذمہ داری کے ساتھ صرف فوجی اہداف پر قہر نازل کیا۔
6 اور 7 مئی کو مسجدوں، بچوں اور عورتوں کو شہید کرنے کی بھارتی جسارت کا دانت توڑنے والا جواب دینے کے لئے ہمارے جوان بے جگری کے ساتھ لڑے اور دشمن پر اس کی اپنی زمین تنگ کر دی۔پاک افواج کے اس قہرناک کاؤنٹر اوفینس کے دوران 11 فوجیوں نے ملک کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ۔ اور 78 اہلکار 'آپریشن بنیانن مرسوس' کے دوران ڈیوٹی کے دوران زخمی ہوئے۔
6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارتی جارحیت میں دشمن نے بیک وقت چھ مقامات پر سمجدوں اور سویلین گھروں پر میزائلوں سے 24 بزدلانہ حملے کئے تھے۔ 40 پاکستانی ان بزدلانہ حملوں میں شہید ہوئے اور 11 فوجی دشمن کو سزا دینے کی کارروائیوں کے دوران شہید ہوئے۔
شہید ہونے والے 11 فوجیوں میں سے 6 کا تعلق پاک فوج سے اور 5 کا تعلق پاک فضائیہ (PAF) سے تھا۔
قوم کے محسن شہیدوں کے نام اور رینک
پاکستان آرمی کے جن سپوتوں کو وطن کی آن پر جان نثار کرنے کی سعادت ملی ان میں سب سے آگے کھڑے ہو کر لڑنے والے نائیک عبدالرحمن شہید، نائیک وقار خالد شہید، لانس نائیک دلاور خان شہید، لانس نائیک اکرام اللہ شہید، سپاہی عدیل اکبر شہید اور سپاہی نثار شہید شامل ہیں۔
پاکستان ائیر فورس کے وطن کے وقار پر قربان ہونے والوں میں سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید ، چیف ٹیکنیشن اورنگزیب شہید، سینئر ٹیکنیشن نجیب شہید، سینئر ٹیکنیشن مبشر شہید اور کارپورل ٹیکنیشن فاروق شہید شامل ہیں۔
فوجی جوانوں کی شہادتوں کے ساتھ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی بلا اشتعال گولہ باری سے پاکستانی کشمیری شہریوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق 7 خواتین اور 15 بچوں سمیت 40 شہری جان کی بازی ہار گئے جب کہ 27 بچوں اور 10 خواتین سمیت 121 افراد زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر کے ترجمان نے کہا کہ "شہید قوم کا فخر ہیں، ان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ہم تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔"قوم جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے، پاکستان کے عزم کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔"



