سٹی 42 : پیٹرولیم ڈیلرز نے 26 مارچ سے پیڑول پمپس بند کرنے کا اعلان کردیا۔ چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز نے کہا ہے کہ 26 مارچ تک کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں، 26 مارچ کے بعد پیڑول پمپس غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کردیں گے۔
چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اب ہم تنگ آگئے ہیں پریشانی کے عالم میں ہیں، پیڑول نہیں مل رہا ہمارے ڈیلرز پریشان ہیں، آج کوئی نہ کوئی حتمی فیصلہ کریں گے، پیٹرولیم ڈیلرز کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ آئندہ شرافت سے بات نہیں کریں گے۔
وائس چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن طارق حسن نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رات کے اندھیرے میں اضافہ کردیا گیا، لیوی میں 21 روپے اضافہ سراسر ظلم ہے، ڈیلرز کو طلب کے مطابق پیڑول کم فراہم کیا جارہا ہے، حکومت آج بھی 50 روپے سے زائد پیڑول مہنگا کرنے جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا ریکارڈ چیک کیا جائے 55 روپے لیٹر کا فائدہ کس کو پہنچا۔ منسٹر پیٹرولیم ہم سے ملاقات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
ملک کے سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز ہیں، پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ایڈوائس ٹیکس ہم دیتے ہیں۔ حکومت مقامی انویسٹر کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار نہیں باہر سرمایہ کار کیسے آئے گا۔ ای سی سی کمیٹی نے پچھلے دنوں 1 روپے سے زائد ہمارا مارجن بڑھانے کی منظوری دی۔ وزیراعظم نے مارجن میں اضافے کو روک دیا۔ وزیراعظم پہلے اپنے بارڈر اور محکموں کو ڈیجیٹائز کریں۔ 3.69 فیصد مارجن تھا جو اب 2.59 فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں عوام کو پریشان کرنا نہیں چاہتے ۔
انہوں نے کہا کہ 26 مارچ تک کی ڈیڈی لائن دے رہے ہیں، 26 مارچ کے بعد پیڑول پمپس غیر معینہ مدت تک کیلئے بند کردیں گے۔ 55 روپے عوام کی جیب سے نکالے گئے اس کا حساب دیا جائے ۔ جس نے پیڑول کی ذخیرہ اندوزی کی ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ڈیلرز ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے، جو ڈیلر ذخیرہ کرے گا ایسوسی ایشن اس کے ساتھ نہیں ہے۔
طارق حسن نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس بڑی مقدار میں ذخیرہ موجود ہے۔ ہم عوام کو رمضان میں پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ 55 روپے فی لیٹر اضافے کی رقم کا آڈٹ کروایا جائے۔ دوسرا مطالبہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کروائی جائیں۔ تیسرا مطالبہ پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد تک بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ وزیرِ پیٹرولیم نے ہمارے مارجن بڑھانے کی یقین دہانی کروائی تھی۔
وائس چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان میں 12 سے 14 ہزار پیٹرول پمپس ہیں، ہم ایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ حکومت بیرونی سرمایہ کاری کا دعویٰ کرتی ہے اور مقامی سرمایہ کاروں کو مشکلات میں مبتلا کر رہی ہے۔ اوگرا نے گزشتہ سال 1.68 روپے فی لیٹر مارجن بڑھانے کی سمری حکومت کو بھیجی۔ وزیراعظم نے اس پر ڈیجیٹائزیشن کی شرط عائد کر کے مسترد کر دیا۔ موجودہ قیمتوں پر ہمارا مارجن 2.59 فیصد ہے جو 8 روپے 64 پیسے ہے۔
وائس چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کہا کہ پاکستان میں 42 آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ہیں جن میں کئی جعلی ہیں۔ آج اگر قیمتیں بڑھیں تو ہمارا مارجن مزید کم ہو جائے گا۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی میں اضافہ نامنظور ہے۔ حکومت نے 55 روپے فی لیٹر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 21 روپے لیوی عائد کی، بقیہ رقم کا حساب کون دے گا؟۔ انہوں نے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیاں ڈیلرز کو پیٹرول نہیں دے رہیں، کئی پیٹرول پمپ ڈرائے ہو رہے ہیں۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی ذخیرہ اندوزی کیلئے حکومت نے معاونت کی ہے۔ آج بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی لیٹر اضافے کا خدشہ ہے۔