ویب ڈیسک: امریکہ نے روسی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری پر عائد 30 روزہ پابندی میں نرمی کا اعلان کیا ہے، جس کے اثرات عالمی مارکیٹ میں واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے خدشات کو جنم دے رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ یہ اقدام عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے، خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے پس منظر میں۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکی بحریہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت کر سکتی ہے، اور ایران کے خلاف کسی بھی جنگی اقدام کے لیے مالی بوجھ ناقابلِ برداشت نہیں ہونا چاہیے۔
اگرچہ امریکہ نے تیل کے محفوظ ذخائر مارکیٹ میں لانے کا اعلان کیا، لیکن خام تیل کی قیمت ایک ہی دن میں تقریباً 10 فیصد اضافے کے بعد 101 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔
واضح رہے کہ آج وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا اعلان کل کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ آج بروز جمعہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردو بدل کا اعلان کیا جائے گا، پیٹرولیم مصنوعات کی اوسط قیمتوں کی بنیاد پر نئی قیمتوں کا تعین ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ پیٹرول مہنگا ہوگا یا نہیں؟
خیال رہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں برطانوی برینٹ خام تیل کی قیمت 101.3 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت بھی 96.27 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈی پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ اس کے اثرات پاکستان میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
گزشتہ دنوں حکومت نے پہلے ہی پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 335 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے کرایوں پر اثر ڈالے گا بلکہ اشیائے خوردونوش اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بھی اضافے کا باعث بنے گا، جس سے عام شہریوں پر مہنگائی کا دباؤ اور بڑھ جائے گا۔