ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پنجاب بار کونسل نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ اکثریتی رائے سے منظور کر لیا

پنجاب بار کونسل نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ اکثریتی رائے سے منظور کر لیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : پنجاب بار کونسل نے وکلاء برادری کے طبی، مالی اور پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے ایک تاریخی اور بڑے ریلیف پیکیج پر مشتمل مالی سال 2026-27 کا سالانہ بجٹ اکثریتی رائے سے منظور کر لیا ہے۔ بجٹ میں وکلاء کی فلاح و بہبود، انشورنس، اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کروڑوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔

​سالانہ بجٹ کا یہ اہم اجلاس وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی کی مشترکہ صدارت میں منعقد ہوا، جس میں سیکرٹری پنجاب بار کونسل رفاقت سوہل نے بھی خصوصی شرکت کی۔ چیئرمین مالیاتی کمیٹی میاں عبدالقدیر جالپ نے بجٹ کی تفصیلات جنرل ہاؤس کے سامنے پیش کیں، جسے ارکان نے بحث کے بعد اکثریتی رائے سے پاس کر دیا۔

​​پنجاب بار کونسل نے نئے وکلاء کے لیے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے یکم جولائی 2026 سے ڈگری تصدیق فیس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ تاہم، پیشہ ورانہ معیار کو برقرار رکھنے کے لیے یہ واضح کیا گیا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ڈگری کی تصدیق اور مساوی سند (Equivalence Certificate) حاصل کیے بغیر کسی بھی نئے وکیل کو لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔​بجٹ میں وفات پا جانے والے وکلاء کے خاندانوں کی مالی معاونت کے لیے خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

وفات کلیمز: وفات کلیمز کی مد میں مجموعی طور پر 1 کروڑ 50 لاکھ روپے کی ادائیگیوں کی منظوری دی گئی ہے۔​

اضافی امداد: مرحوم وکلاء کے لواحقین کے لیے 1 لاکھ روپے اضافی امداد کا اعلان کیا گیا ہے۔دورانِ سروس وکیل کی وفات پر ضلعی بار ایسوسی ایشنز کو 1 لاکھ روپے فوری امداد دینے کا اختیار تفویض کر دیا گیا ہے۔حصیل بار ایسوسی ایشنز کو کسی وکیل کے انتقال کی صورت میں 50 ہزار روپے فوری طور پر فراہم کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔​وکلاء اور ان کے اہلخانہ کو درپیش صحت کے مسائل کے پیشِ نظر سنگین بیماریوں کے کیسز میں طبی امداد کی رقم میں تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اب یہ امداد 50 ہزار روپے سے بڑھا کر 1 لاکھ 50 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔​نئے انرول ہونے والے وکلاء کے تحفظ کے لیے گروپ انشورنس اسکیم کا دائرہ کار وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ​40 سال تک کی عمر کے نئے وکلاء کے لیے 4 لاکھ روپے کی انشورنس کوریج مقرر کی گئی ہے۔​وکلاء کو 6 لاکھ روپے کی خصوصی انشورنس اسکیم کا متبادل اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔​پہلی بار 40 سے 60 سال تک کی عمر کے وکلاء کو بھی مخصوص شرائط کے تحت اس انشورنس اسکیم میں شامل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

​وکلاء کی قانونی مہارت اور بار کی عمارتوں کی بہتری کے لیے درج ذیل فنڈز منظور کیے گئے۔ ​پاکستان لا جرنل (PLJ): وکلاء کو قانونی کتب کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے 75 لاکھ روپے مختص کیے گئے۔

وکلاء اکیڈمی و تربیت: وکلاء کی پیشہ ورانہ تربیت اور "وکلاء اکیڈمی" کے قیام کے لیے 60 لاکھ روپے کی منظوری۔

​رہائشی سہولیات: وکلاء رہائش گاہوں میں لفٹوں کی تنصیب کے لیے 20 لاکھ روپے کا فنڈ  کی منظوری دی گئی ہے۔

​پنجاب بار کونسل کے عہدیداران کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ خالصتاً وکلاء دوست ہے اور کونسل مستقبل میں بھی وکلاء برادری کے طبی، مالی اور پیشہ ورانہ تحفظ کے لیے اپنے فلاحی اقدامات کا سلسلہ عزمِ مصمم کے ساتھ جاری رکھے گی۔