راو دلشاد: پنجاب میں پاکستان کے پہلے کاربن کریڈٹ مارکیٹ منصوبے کی تکمیل کی جانب پیش رفت جاری ہے جبکہ محمود بوٹی لینڈفل سائٹ پر فیز ٹو کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔ سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے منصوبے کا دورہ کیا اور فیز ٹو کے تحت فلیئرنگ سسٹم کا افتتاح کیا۔
دورے کے دوران روڈا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران امین نے سینئر وزیر کو محمود بوٹی لینڈفل سائٹ کی بحالی اور جاری ترقیاتی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہیں بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت لینڈفل سائٹ سے خارج ہونے والی میتھین گیس کو توانائی میں تبدیل کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے کا مقصد کاربن کریڈٹس اور گرین انرجی کے ذریعے آمدن کے نئے اور مستقل ذرائع پیدا کرنا ہے۔ اس سلسلے میں کاربن کریڈٹ مارکیٹ منصوبے کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 43 ایکڑ پر مشتمل لینڈفل سائٹ کی مرحلہ وار بحالی جاری ہے، جس کے تحت 11 ایکڑ رقبے پر 5 میگاواٹ سولر پارک قائم کیا جائے گا جبکہ 31 ایکڑ پر اربن فاریسٹ تیار کیا جا رہا ہے۔
منصوبے کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے علاقے میں پھیلی بدبو اور تعفن کے خاتمے سے مقامی آبادی کو ریلیف ملا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی، کاربن اخراج پر قابو پانے، درجہ حرارت میں کمی، فضائی معیار میں بہتری اور زیرزمین پانی کے تحفظ میں مدد ملے گی۔
مریم اورنگزیب نے دورے کے دوران ویسٹ ڈمپ کو جدید سولر پارک میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا بھی جائزہ لیا اور جاری کاموں پر اطمینان کا اظہار کیا۔