8 ہزار سیف سٹی کیمرے بےکار، جرائم کی شرح دگنی ہوگئی

8 ہزار سیف سٹی کیمرے بےکار، جرائم کی شرح دگنی ہوگئی

(عرفان ملک)16 ارب سے زائد کی خطیر رقم سے سیف سٹی اتھارٹی کے قیام کے2 سال بعد بھی جرائم کی شرح دگنی ہوگئی، سیف سٹی اتھارٹی پر 16 ارب سے زائد کی خطیر رقم صرف اس لیے لگائی گئی کہ شہر کو کیمروں کی مدد سے محفوظ بنایا جاسکے۔

2017ء کے بعد شہر میں جرائم کی شرع میں دگنا اضافہ ہوا، رواں سال کے پانچ ماہ کے دوران 6400 سے زائد سنگین وارداتوں کے مقدمات درج ہوئے جبکہ 2017ءکے پہلے پانچ ماہ میں شہر میں3600 مقدمات درج ہوئے تھے، اسی طرح سال 2018-19 میں جرائم کا گراف کم ہونے کے بجائے بڑھ گیا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے سے بننے والے سیف سٹی اتھارٹی پر اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود شہر میں ڈکیتی اور سڑیٹ کرائم کی وارداتوں میں کمی نہیں آئی جبکہ اتھارٹی کی جانب سے 8 ہزار کیمرے لگانے کا دعویٰ بھی کیا گیا تاہم اس کے باوجود جرائم پر کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق رواں سال سب سے زیادہ وارداتیں صدر ڈویژن میں ہوئیں، جن کی تعداد 1495 رہی، کینٹ ڈویژن دوسرے اور سٹی ڈویژن جرائم کے حوالے سے تیسری پوزیشن پر رہا۔