سٹی 42: چیف آرگنائزر پی ٹی آئی پنجاب کی اکلوتی عوامی لیڈر اور چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ علی امین گنڈاپور کے سامنے ڈٹ گئیں۔
علی امین گنڈاپور اور اسلام آباد سے آنے والے دوسرے لیڈروں نے کل ہفتے کی رات لاہور کے نواحی علاقہ میں ایک فارم ہاؤس میں بیتھ کر جو فیصلے کئے ان میں پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ کو شریک نہیں کیا۔ آج نیوکانفرنس میں بھی انہیں ساتھ نہیں بٹھایا، اب یہ سامنے آ رہا ہے کہ عالیہ حمزہ نام نہاد نوے روزہ احتجاج پلان کے خلاف ہیں۔
چیف آرگنائزر پی ٹی آئی پنجاب نے چیئرمین بیرسٹر گوہر، وزیراعلیٰ کے پی، جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ اور اپوزیشن لیڈر کے 90 دن کے احتجاج کے پلان سے اظہار لاعلمی کردیا، عالیہ حمزہ نے انکشاف کیا کہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس میں انہیں بلانے کی زحمت نہیں کی گئی اور الٹٓ ان کے مصروف ہونے کا جھوٹ گھڑ کر میڈیا کو گمراہ کیا گیا۔
عالیہ حمزہ نے علی امین اور دیگر لیڈروں کی منافقت پر طنز کرتے ہوئے کہا ویسے تو میرے تک پہنچنے والی کچھ اطلاعات کے مطابق میں پچھلےدو دن سے بہت مصروف تھی، ایسی مصروفیات جن کا شاید مجھے بھی علم نہیں تھا۔
عالیہ حمزہ نے سوال کیا، کیا کوئی روشنی ڈالے گا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے کس لائحہ عمل کا کل یا آج اعلان ہوا ہے؟تحریک کہاں سے اور کیسے چلے گی؟5 اگست کے مقابلے میں 90 دن کا پلان کہاں سے آیا ہے؟ اگر آپ میں سے کسی کی نظر سے گزرا ہو تو میری بھی رہنمائی کر دیں،
آج پریس کانفرنس میں بانی کے ذاتی وکیل سے ترقی پا کر پی ٹی آئی لا لیڈر بن جانے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے میڈیا نمائندوں کو بتایا تھا کہ عالیہ حمزہ مصروفیت کے باعث شریک نہیں ہو سکیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہی وکیل صاحب نے پی ٹی آئی کے لاہور آ کر اجلاس کرنے والے رہنماؤں کے اسلام آباد میإ اجلاس کے بعد بتایا تھا کہ ہم لاہور جا رہے ہیں جہاں پنجاب کی قیادت سے مشورے کرین گے، جب لاہور آئے تو انہوں نے "پنجاب کی قیادت" کو اجلاس سے ہی دور رکھا۔