ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب یونیورسٹی سے لڑائی جھگڑے کے دوران نکالے گئے طلباء کے معاملے میں سول کورٹ کے حکم امتناعی کو فوری طور پر معطل کرنے کی استدعا مسترد کر دی۔ عدالت نے فریقین طلباء کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا۔
جسٹس راحیل کامران شیخ نے پنجاب یونیورسٹی کی درخواستوں پر سماعت کی، پنجاب یونیورسٹی نے لڑائی جھگڑے کے بعد 22 طلباء کو نکالنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے خلاف طلباء نے سول کورٹ سے رجوع کیا اور وہاں سے حکم امتناعی حاصل کیا، جس کے تحت انہیں تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تھی۔ پنجاب یونیورسٹی نے اس فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ یونیورسٹی کی جانب سے وکیل شہزاد شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران جسٹس راحیل کامران شیخ نے یونیورسٹی کے وکیل سے مکالمے کرتے ہوئے کہا "آپ چاہتے ہیں کہ جو طلباء لڑائی جھگڑے میں ملوث ہوئے وہ پکے ہی کریمنل بن جائیں؟"عدالت نے مزید کہا کہ یہ معاملہ *بچوں کے مستقبل سے متعلق ہے، اس لیے اسے انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا۔" جسٹس راحیل کامران نے یونیورسٹی کے وکیل سے سوالات کرتے ہوئے کہا کیا طلباء کو قانون کے مطابق سزا دی گئی؟کیا دی جانے والی سزا ان کی غلطی سے مطابقت رکھتی ہے؟شہزاد شوکت ایڈووکیٹ نےجواب دیا کہ تعلیمی اداروں کے معاملات میں عدالتیں عموماً مداخلت نہیں کرتیں، اور یونیورسٹی کی جانب سے صرف استدعا کی جاتی ہے کہ حکم امتناعی منسوخ کیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ یونیورسٹی کے لیگل ایڈوائزر ہیں اور اس کیس کے لیے اتنی فیس نہیں لی جتنی عام طور پر لیتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ طلباء کے پاس یونیورسٹی جیسے وکیل کی سہولت نہیں ہوگی، اس لیے عدالت اس کیس میں عدالتی معاون بھی مقرر کر رہی ہے تاکہ طلباء کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ پہلے یونیورسٹی کو عدالت کے دو سوالات کے جواب دینے ہوں گے، جس کے بعد دیگر دلائل سنے جائیں گے۔