سرکاری ملازمین پر نئی پابندی عائد

سرکاری ملازمین پر نئی پابندی عائد

(قیصر کھوکھر) وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے میڈیا سے گفتگو کرنے پر پابندی عائد کر دی۔

وفاقی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر کسی بھی موضوع پر اپنی رائے کا اظہار نہ کریں۔

وفاقی حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر کوئی ملازم یا افسر بغیر اجازت میڈیا پر اظہار خیال کرتے پایا گیا تو اس کیخلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ 4 اگست کو وفاقی حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمین کے نجی کاروبار کرنے پر  بھی پابندی عائد کی گئی، سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار، ٹریڈ اورکنسلٹنسی امور سے فوری طور پر روک دیا گیا، اس کی خلاف ورزی پر سول سرونٹس رولز کے تحت کارروائی ہوگی۔

ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کے ذاتی و نجی کاروباری معاملات کا عمل مس کنڈکٹ کے مترادف ہوگا، سرکاری ملازمین کو نجی کاروبار و ملازمت یا کنسلٹنسی خدمات کے لیے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔

 اس سے قبل وفاقی حکومت نے  گریڈ1 سے 16 تک کے ملازمین پراسمارٹ فون دفاتر میں لانے  اورسرکاری افسران اور ان کے ماتحت اہلکاروں کو ذرائع ابلاغ سے رابطہ کرنے سے منع کر دیا تھا، وفاقی حکومت نے اپنے افسران و اہلکاروں کو پابند کر رکھا ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی معلومات یا دستاویزات ذرائع ابلاغ کو فراہم نہیں کریں گے۔

یادرہے کہ پنجاب حکومت نے بھی غیر متعلقہ افراد پر خفیہ معلومات افشاں ہونے کے خدشات کے پیش نظر دفاتر میں واٹس ایپ کے ذریعے سرکاری دستاویزات کی شیئرنگ پر پابندی عائد  کردی تھی۔