ملک اشرف : بجلی بلوں میں سلیب ٹیرف کا طریقہ کار چیلنج، لاہور ہائیکورٹ نے نیپرا سے جواب طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں بجلی کے بلوں میں سلیب ٹیرف ریٹ بڑھانے کے طریقہ کار کو چیلنج کرتے ہوئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جہاں عدالت نے نیپرا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔
جسٹس خالد اسحاق نے سائلہ خاتون اشباء کامران کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں نیپرا سمیت دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست گزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ بجلی کے بلوں میں سلیب سسٹم کا نفاذ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ آئین اور متعلقہ قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ دو سو یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو پروٹیکٹڈ کیٹگری میں رکھا جاتا ہے، تاہم جیسے ہی یونٹس کی تعداد 200 سے بڑھتی ہے، پورے بل پر زیادہ شرح لاگو کر دی جاتی ہے جس سے بل کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔درخواست میں مزید مؤقف اپنایا گیا کہ یہ طریقہ کار صارفین کو سزا دینے کے مترادف ہے، خصوصاً وہ صارفین جو حکومتی سبسڈی کے تحت آتے ہیں، انہیں 200 یونٹس سے زائد استعمال پر اضافی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ درخواست گزار کے مطابق ایسے صارفین سے چھ ماہ تک اضافی رقم بطور پینلٹی وصول کی جاتی ہے جو کہ غیر قانونی اقدام ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک یونٹ بڑھنے پر نیپرا کی جانب سے پورے بل کو ہائیسٹ سلیب میں شامل کر کے چارج کیا جاتا ہے، جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ نظام نیپرا ایکٹ 1997 کے منافی ہے اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 14 اور 25 سے بھی متصادم ہے، جو شہریوں کو برابری، جان و مال کے تحفظ اور منصفانہ سلوک کی ضمانت دیتے ہیں۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ نیپرا ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جس کا کام بجلی کے نرخوں کا تعین اور نگرانی کرنا ہے، نہ کہ صارفین کو سزا دینا یا غیر متناسب مالی بوجھ ڈالنا۔درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بجلی کے بلوں میں سلیب ٹیرف ریٹ بڑھانے کے طریقہ کار کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے اور صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے۔عدالت نے نیپرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ سلیب سسٹم کے نفاذ کی قانونی بنیاد اور طریقہ کار سے متعلق مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کرے، جس کے بعد کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔