تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ڈینگی ورکرز سراپا احتجاج

تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ڈینگی ورکرز سراپا احتجاج

( راؤ دلشاد حسین ) تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ڈینگی ورکرز سراپا احتجاج، بیگم پورہ میں شالا مار ٹاؤ ن کے ڈینگی ورکرز نے ڈی ڈی او ایچ کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا۔

شالامار زون کے ڈینگی ورکرز تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سراپا احتجاج بن گئے، ڈینگی ورکرز نے زونل آفس کے باہر احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کورونا سے تو بچ جائیں گے کہیں بھوک سے نہ مرجائیں۔ 3 ماہ کی تنخواہیں نہیں دی گئیں جس کے باعث ہمارے گھروں میں فاقے ہیں۔

ہم سرکاری دفاتر کے چکر لگا لگا کرتھک چکے ہیں۔ ڈینگی ورکرز نے وزیراعظم، وزیراعلی پنجاب، وزیرصحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب کورونا کی وباء کے ساتھ ڈینگی بھی پھیلنے کا خدشہ بڑھنے لگا۔ درجہ حرارت میں تبدیلی اور حالیہ بارشوں سے ڈینگی بخار سر اٹھانے کو تیار ہو چکا ہے۔ ڈینگی ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ نے ڈینگی کیسز سے خبردار کر دیا۔

طبی ماہرین کے مطابق ڈینگی کے مرض سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ کسی بھی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیا جائے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر لوگوں کی توجہ صرف گندے پانی کی جانب جاتی ہے لیکن صاف پانی بھی اس مرض کو پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔

ڈاکٹر شیر شاہ سید کہتے ہیں کہ مچھر دانیوں اور سپرے کا استعمال لازمی کرنا چاہیے کیونکہ ایک مرتبہ یہ مرض ہوجائے تو اس وائرس کو جسم سے ختم ہونے میں دو سے تین ہفتوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ بارش کے بعد اگر گھروں کے آس پاس یا لان، صحن وغیرہ میں پانی جمع ہو تو اسے فوراً نکال کر وہاں سپرے کرنے سے ڈینگی سے بچاؤ ممکن ہے۔