پنجاب حکومت اہم مسئلے سے نظریں چرانے لگی

پنجاب حکومت اہم مسئلے سے نظریں چرانے لگی

سعود بٹ :حکومتی عدم دلچسپی، پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی نئی گورننگ باڈی چھ ماہ بعد بھی نہ بنائی جا سکی، ہزاروں ورکرز کی ویلفیئر گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ اور میرج گرانٹس کے کیسز لٹک گئے۔

حکومت پنجاب کی لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اہم ذیلی محکمہ میں عدم دلچسپی کہ وجہ سے پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کی نئی گورننگ باڈی چھ ماہ بعد بھی نہ بنائی جا سکی۔ذرائع کے مطابق ورکرز ویلفیئر بورڈ چھ ماہ قبل ورکرز ویلفیئر فنڈ میں تبدیل ہو چکا ہے۔وزارت لیبر کیجانب سے وزیراعلیٰ آفس کو نئی سمری بھی بھجوائی گئی جس پر تاحال کوئی کام نہ ہوا۔

ذرائع کے مطابق گورننگ باڈی نہ ہونے سے تمام اختیارات سیکرٹری لیبر بطور چیئر پرسن استعمال کر رہی ہیں۔گورننگ باڈی نہ بننے سے ہزاروں ورکرز کی ویلفیئر گرانٹ، ڈیتھ گرانٹ اور میرج گرانٹس کے کیسز لٹک گئے ہیں۔

اس سے قبل پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا تھا کہ  ورکرز فنڈ کے تحت ملازمین کو گھر کی تعمیر سے لیکر بچوں کی تعلیم تک امداد فراہم کی جائے گی، پیشہ وارانہ ہنر اور تربیت، بچوں کی شادی اور بچوں کی سکالر شپ دی جائے گی، پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ کیلئے گورننگ باڈی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ گورننگ باڈی ملازمین کو فنڈ کی رقم دینے یا نہ دینے کی مجاز ہو گی، ملازمین کو کم سے کم پانچ لاکھ روپے تک کی امدادی رقم فراہم کی جائے گی، زیادہ امداد کی فراہمی کا فیصلہ گورننگ باڈی کرے گی، ملازم اپنی تنخواہ سے دو فیصد لیے گئے قرض کی ادائیگی کیلئے سالانہ واپس کرے گا۔

16 رکنی گورننگ باڈی کا سربراہ لیبر اینڈ ہیومن ریسورس ڈیپارنمنٹ کا سیکرٹری ہوگا، گورننگ باڈی کے اراکین میں سوشل سیکورٹی کے کمشنر، ڈی جی لیبر ویلفئیر اور پنجاب ریونیو اتھارٹی کے چیئرمین، مائنز لیبر ویلفئیر کے کمشنر اور سیکرٹری پنجاب ورکرز ویلفیئر فنڈ شامل ہوں گے جبکہ صنعتی مالکان اور ملازمین کے تین تین افراد بھی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔