ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے 12 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کے کیس میں ملزم عون عباس کی بعد از گرفتاری درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ عدالت نے ملزم کو 10،10 لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
جسٹس غلام سرور نہنگ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم کی درخواستِ ضمانت پر 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا، جس میں قرار دیا گیا کہ میڈیکل اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں مقدمہ مزید انکوائری کا بنتا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ محض الزام کی سنگینی ضمانت مسترد کرنے کی واحد بنیاد نہیں بن سکتی۔ فیصلے کے مطابق فرانزک رپورٹ کی روشنی میں لیڈی ڈاکٹر نے مبینہ زیادتی کے شواہد نہ ہونے کی حتمی رائے دی، جبکہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ میں بھی ملزم کا کوئی منوی مواد نہیں پایا گیا۔
عدالت نے فیصلے میں متاثرہ بچی کے جسم پر تشدد یا خارش کے نشانات نہ ملنے کا بھی ذکر کیا۔ عدالت نے واقعے کے 7 روز بعد متاثرہ بچی کا طبی معائنہ کرانے پر سوالات اٹھاتے ہوئے پولیس کی جانب سے متاثرہ کے دفعہ 164 کے تحت بیانات ریکارڈ نہ کرانے کا بھی ذکر کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ الزام ثابت کرنے کی بنیادی ذمہ داری ہر مرحلے پر پراسیکیوشن پر عائد ہوتی ہے، جبکہ جرم ثابت ہونے تک ہر ملزم قانون کی نظر میں بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔
عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ ہائیکورٹ کے مشاہدات سے متاثر ہوئے بغیر مقدمے کا فیصلہ قانون اور میرٹ کے مطابق کیا جائے۔
ملزم عون عباس کے خلاف تھانہ گوگیرہ، اوکاڑہ میں 2024 میں مبینہ زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔