ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اسرائیل کا نام لیے بغیرقطر پر حملے کی مذمت

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اسرائیل کا نام لیے بغیرقطر پر حملے کی مذمت
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر پر حالیہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری طور پر کشیدگی کے خاتمے کی اپیل کی ہے تاہم بیان میں اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا جس نے یہ حملہ کیا تھا۔

سلامتی کونسل کے مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی جاتی ہے اور دوحہ کو اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کرنے والے "اہم شراکت دار" کے طور پر سراہا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں انسانی بحران کا خاتمہ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

اس حملے کے بعد قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی اقوام متحدہ کے ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک پہنچے۔ انہوں نے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک ثالثی کا کردار جاری رکھے گا لیکن اپنی خودمختاری پر کسی حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے اسرائیلی قیادت کو "خونخوار انتہاپسند" قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

ادھر، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اسرائیل کے اس اقدام پر ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں رہائشی علاقے پر حملہ اسرائیل اور امریکہ دونوں کے مقاصد کو آگے نہیں بڑھاتا"۔ سلامتی کونسل میں امریکی نائب سفیر ڈوروتھی شی نے بھی کہا کہ قطر جیسی خودمختار ریاست پر یکطرفہ بمباری غیر مناسب ہے، تاہم انہوں نے اسرائیل کی جانب سے حماس کے خاتمے کے مقصد کو "قابل فہم قرار دیا۔

اقوام متحدہ کی انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور، روزمیری ڈی کارلو نے اس حملے کو خطرناک اور غیر معمولی اضافہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

پاکستان کا سخت ردعمل:
پاکستان نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ صرف مذمت کافی نہیں، اسرائیل کو اس غیرقانونی اور بلاجواز جارحیت پر جوابدہ بھی ٹھہرایا جانا چاہیے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر آصف افتخار احمد نے کہا کہ قطر کے خلاف یہ حملہ ایک "اشتعال انگیز اور خطرناک اقدام" ہے جو نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی خودمختاری کے خلاف ہے بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے رہائشی علاقے کو نشانہ بنا کر عام شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالا، جو کہ عالمی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ حملہ اسرائیل کی جانب سے مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی ایک کڑی ہے۔"

سفیر آصف افتخار نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ قطر کے دورے پر ہیں، جس کا مقصد قطر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور خطے میں امن و استحکام کی حمایت ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مسلسل جارحانہ اقدامات، جن میں غزہ میں فوجی کارروائیاں، شام، لبنان، ایران اور یمن میں حملے شامل ہیں، اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں۔

پاکستان نے زور دیا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو کمزور کرتے ہیں، دنیا میں استثنیٰ کی خطرناک روایت قائم کرتے ہیں اور تمام ریاستوں کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔