وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا اختیارات کا ناجائزاستعمال

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا اختیارات کا ناجائزاستعمال


سٹی42 : پولیس افسران کودفتربلاکر دوست کے کٹہرے میں کھڑا دیا۔ سابق آئی جی پنجاب کلیم امام نے ڈی پی اوپاکپتن کی تبدیلی پرانکوائری رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادی۔

یہ بھی لازمی پڑھیں:نیوز بلیٹن 3بجے 14 نومبر2018  

رپورٹ میں ثابت ہوا کہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے 24اگست کی رات ڈی پی او اورآر پی او کو اپنے دفترمیں طلب  کیا۔ وزیراعلیٰ  کی  موجودگی  میں ان کے قریبی دوست احسن اقبال جمیل خاورمانیکا خاندان کیساتھ پیش آنے والے واقعات کی پولیس افسران سے شکایات کرتے رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ اس دوران خاموش رہے لیکن ڈی پی او پاکپتن کو ایک اجنبی کے ساتھ اس طرح آمنا سامنا کرانا پسند نہ آیا۔

ڈی پی او نے محسوس کیا کہ وزیراعلیٰ اورآپی او کی موجودگی میں کوئی اجنبی انکی باز پرس کررہا ہے۔ ڈی پی او نے محسوس کیا کہ انہیں دبایا جا رہا ہے جوانہیں ناگوارگزرا۔رپورٹ میں بتایا خاورمانیکا کے بچوں کوشک تھا کہ ان کے چچاؤں کے مخالف سیاسی پارٹی کے ساتھ تعلقات ہیں جس کی بنا پران کےساتھ ایسا سلوک برتا گیا اورذمہ داران کیخلاف کارروائی نہ ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تمام بیانات کا بغورجائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہےکہ احسن اقبال جمیل کا کوئی اقدام ایسا نہیں تھا جو قابل دست اندازی پولیس ہو، احسن اقبال جمیل میٹنگ میں بطور شکایت کنندہ موجود تھا اوروزیراعلیٰ نے نہ تو کوئی تحریری احکامات جاری کیے نہ پولیس کو کوئی ہدایات جاری کیں۔وزیراعلیٰ نے آر پی او کو معاملہ کو اپنے طور پر حل کرنے کے لیےکہا رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ آئندہ وزیراعلیٰ کسی بھی پولیس افسرکو براہ راست اپنے دفتر طلب نہ کرِیں

اگر کسی افسر سے متعلق کوئی معاملہ ہو تو اسے آئی جی پنجاب کے زریعے طلب کیا جائے۔ وزیر اعلی آفس میں آنے والی شکایات ازالے کے لیے آئی جی کو بھجوائی جائیں، کسی افسر کو وزیر اعلیٰ ، وزراء اور دیگر سرکاری دفاتر میں جانے کی اجازت نہ ہو جب تک کہ انھیں آئی جی کی جانب سے ہدایات جاری نہ ہوں۔

 

 

شازیہ بشیر

Shazia bashit Editor