ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کینسر کی جعلی ادویات مارکیٹ میں فروخت ہونے کا انکشاف، ڈریپ کا الرٹ جاری

کینسر کی جعلی ادویات مارکیٹ میں فروخت ہونے کا انکشاف، ڈریپ کا الرٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

زاہد چوہدری: ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان ( ڈریپ) نے ملک میں کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی جعلی ادویات کی فروخت کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کینسر مریضوں کیلئے استعمال ہونے والی دو اہم ادویات امفنزی انجیکشن اور اینہرٹو جعلی نکلی ہیں۔ ڈریپ نے اس حوالے سے متعلقہ دوا ساز کمپنی ایسٹرازینیکا سے رابطہ کیا، جس نے بھی تصدیق کی ہے کہ مذکورہ ادویات جعلی ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستان میں فروخت ہونے والے ان ادویات کے بیچ نمبرز جعلی طور پر تیار کیے گئے تھے اور ان کی پیکنگ، لیبلنگ اور بارکوڈ بھی جعلی پائے گئے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ بیچ کبھی تیار ہی نہیں کیے گئے۔

ڈریپ نے خبردار کیا ہے کہ جعلی کینسر ادویات مریضوں کی جان کیلئے انتہائی خطرناک ہیں، اس لیے ڈاکٹرز، ہسپتالوں اور فارمیسیز کو خریداری میں سخت احتیاط کی ہدایت دی گئی ہے۔

مزید یہ کہ ڈرگ انسپکٹرز کو جعلی ادویات کی فوری فروخت روکنے اور مارکیٹ سے ان کی برآمدگی یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جبکہ عوام کو بھی مشتبہ ادویات استعمال نہ کرنے کی وارننگ دی گئی ہے۔