ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

مودی سرکار نے کشمیر میں میرواعظ عمر فاروق کی عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگا دی

Indian Held Kashmir, Mirwaiz Umar Farooq, Awami Action Committee, BJP, city42
کیپشن: File Photo
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بھارت میں نریندر مودی کی  حکومت نے  مقبوضہ کشمیر کی 2 مزید  سیاسی تنظیموں پر  ایک کالے قانون کے تحت 5 سال کے لئے سیاست کرنے پر  پابندی لگا دی۔

بھارت پر حکمران ہندوتوا پرست بھارتیہ جنتا پارٹی کو کشمیر کے عوام نے ریاست کے الیکشن اور اس سے پہےل لوک سبھا کے الیکشن مین مسترد کر کے آرٹیکل 370 ختم کرنے کی خوب سزا دی لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی خود کو مسترد کئے جانے کا انتْقام کشمیری عوام کی مقبول جماعتوں سے لینے پر تل گئی ہے۔ 

نئی دہلی میں  امیت شا  کی وزارت داخلہ نےمقبول کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق کی عوامی ایکشن کمیٹی اور جموں و کشمیر اتحاد المسلمین پر پابندی لگانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ انڈین  وزارت داخلہ نے ان دونوں تنظیموں پر "علیحدگی پسند سرگرمیوں" کا الزام لگایا ہے.  2019 سے اب تک مقبوضہ کشمیر کی 10 سیاسی تنظیموں پر پابندی لگ چکی ہے۔ 

مقبوضہ کشمیر مین نریندر مودی کی اتحادی  سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی  تک کوئی بھی نریندر مودی کی مرکزی حکومت کے جبر اور انتہا پسندی پر مبنی اقدامات کا ریاست مین دفاع نہیں کر پا رہا۔ محبوبہ مفتی کو کہنا پڑا کہ  سیاسی تنظیموں پر پابندی جموں و کشمیر کے سیاسی منظر نامے کے لیے ایک اور دھچکا ہے، اختلاف رائے دبانے سے تناؤ مزید بڑھے گا۔ 

محبوبہ مفتی نے  کہا کہ جمہوریت شہریوں کے حقوق کی محافظ ہوتی ہے، بی جے پی کا آوازیں دبانے کاسیاسی ایجنڈا کشمیریوں کے بنیادی حقوق مجروح کر رہا ہے، بھارت اپنے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے باز آجائے۔ واضح رہے کہ مھبوبہ مفتی بھارتیہ جنتا پارٹی کے کشمیر میں  کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو کچلنے کی مذموم سازش میں مدد دینے کے عوض کئی سال تک ریاست کی وزارتَ اعلیٰ سے چپکی رہیں، حالیہ ریاستی انتخاب میں پبلک کو سزا دینے کا موقع ملا تو پبلک نے بھارتیہ جنتا ]پارٹی کے ساتھ محبوبہ مفتی کی ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدواروں کو بھی مسترد کر دیا۔ عوام کی خواہشات کے مطابق سیاست کرنے والی کوئی بھی جماعت کشمیر ریاستی اسمبلی کے الیکشن مین سامنے نہین تھی تو عوام نے ووٹ کانگرس اور نیشنل پارٹی کو دیئے جو بہرحال مودی کے ایجنڈا کی مخالف تھیں۔ 

میر واعظ عمر فاروق عرصہ سے کشمیر کی آزادی کے لئے کئی جماعتوں کے اتحادی کی قیادت کر رہے تھے جسے کل جماعتی حریت کانفرنس کہا جاتا تھا۔ اس فورم کو بین کئے جانے کے بعد میر واعظ عمر فاروق  ریاستی اسمبلی کی نام نہاد سیاست کے متوازی عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے متحرک ہوئے تو نریندر مودی کی مرکزی سرکار نے خوفزدہ ہو کر ان کی تنظیم پر پابندی لگا دی۔