ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

50 ہزار سے کم تنخواہ والوں کیلئے 50 فیصد اضافے کا مطالبہ

50 ہزار سے کم تنخواہ والوں کیلئے 50 فیصد اضافے کا مطالبہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:وفاقی بجٹ 2026-27 کی پیشی کے موقع پر سرکاری ملازمین نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کرنے کا اعلان کر دیا، جبکہ مختلف شہروں اور صوبوں سے ملازمین کی آمد بھی شروع ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں شرکت کیلئے ملازمین پاک سیکریٹریٹ چوک پر جمع ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تمام شرکاء کی آمد مکمل ہونے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کیا جائے گا۔

رپورٹس کے مطابق سرکاری ملازمین گزشتہ دو دنوں سے وزارت خزانہ کے باہر بھی اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے تھے۔

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اگیگا) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وفاقی بجٹ میں ان کے تمام مطالبات شامل کیے جائیں اور 10 مارچ 2025 کو ہونے والے معاہدے پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

احتجاج کرنے والے ملازمین کا کہنا ہے کہ تمام ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کو بنیادی تنخواہ میں شامل کر کے نیا پے اسٹرکچر متعارف کرایا جائے اور 2026 کیلئے 100 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جائے۔

ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ 50 ہزار روپے سے کم تنخواہ لینے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ کیا جائے، جبکہ کنوینس، میڈیکل اور ہاؤس رینٹ الاؤنسز میں 200 فیصد اضافے کی منظوری دی جائے۔

مطالبات میں پنشن اصلاحات واپس لینے، موجودہ پنشن نظام برقرار رکھنے، اساتذہ اور ریسرچرز کیلئے 25 فیصد ٹیکس سلیب ختم کرنے اور پہلے سے کٹی ہوئی رقم کی واپسی بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ احتجاجی ملازمین نے ڈیلی ویجز اور کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی، دورانِ ملازمت انتقال کرنے والے ملازمین کے بچوں کیلئے بھرتیوں کی بحالی، نجکاری کے عمل میں شامل اداروں کیلئے مشترکہ کمیٹیوں کے قیام اور کم از کم ماہانہ اجرت 50 ہزار روپے مقرر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔