سٹی42: پی ٹی آئی کے لیڈروں نے ایک بار پھر فوج کے خلاف نفرت انگیز نعروں کے ساتھ "تحریک" چلانے کا اعلان کر دیا، لیکن پی ٹی آئی کی قیادت ایک بار پھر کوئی تحریک چلانے کا منصوبہ بنانے میں بری طرح ناکام ہو گئی۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے لاہور کے نواحی علاقہ میں بیتھ کر یہ اعلان کیا کہ "یہ تحریک پنجاب سے چلائی جائے گی۔" لیکن اس کے ساتھ اس نے جو باتیں کہیں ، ان کا لب لباب یہ تھا کہ پی ٹی آئی کے مقامی لیڈر خود بیٹھ کر فیصلے کریں کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔
اپنے بانی کو اڈیالہ جیل سے چھڑوانے کے لئے تحریک چلانے کی منصوبہ بندی کرنے کے لئے لاہور کے نواحی علاقہ رائے ونڈ مین ایک نجی فارم ہاؤس مین میٹنگ کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنما جب کسی منصوبہ پر متفق نہیں ہو سکے تو علی امین نے ایک طرف تو کہا، "آج لاہور سے ہم تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں، انشا اللہ ہماری تحریک پورا ملک فتح کرے گی۔" اس کے ساتھ ہی اس نے کہا، " اب ہمارا لائحہ عمل پاکستان کے حالات کے مطابق ہونا چاہیے تمام صوبوں سے کہتا ہوں آپ کے جیسے حالات ہیں، آپ بہتر سمجھتے ہیں آپ ان حالات کو سامنے رکھ کر لائحہ عمل تیار کریں ۔ پنجاب کا خیبر پختونخوا سے تقابل کریں گےتو یہ ذیادتی ہوگی۔"" آج ہمارا یہ پیغام ہے تمام جلد سے جلد بیٹھ کر اپنے اپنے ایریا ز میں کس طرح کے حالات ہیں ان کے حساب لائحہ عمل بنا کر پارٹی کوپیش کریں،ہم 5اگست تک اس کو پیک پر لے کر جانا ہے یہ سوچنا ہوگا وہ کیسے کرنا ہے۔"
پی ٹی آئی کا اجلاس ہفتے کی شام دن ڈھلنے کے بعد لاہور کے نواح میں رائیونڈ روڈ پر واقع ایک فارم ہاؤس میں ہوا۔ اس اجلاس میں پی ٹی آئی کے لیڈر اور 8 فروری 2024 کا الیکشن لڑنے والے کئی آزاد امیدوار موجود تھے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ نے، جو اس اجلاس میں خاص طور پر لاہور آئے، مرکزی تقریر کی۔
علی امین گنڈاپور کی فوج کے خلاف تقریر
علی امین گنڈاپور نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں اس وقت مارشل لا ہے۔ اس نے پی ٹی آئی کی پرانی سٹیریو ٹائپ بیانیہ بولا اور کہا، اس ملک پر کئی دہائیوں سے کچھ پارٹیاں اور اسٹبلشمنٹ مسلط ہے،یہ ( اسٹیبلشمنٹ) چاہتے ہیں جن کو ہم چاہیں ان کو لے کر آئیں،انہوں نے مارشل لگا کر اس ملک پر اتںے تجربات کیے کہ "اس ملک کا تختہ نکال دیا". ان کا دل پھر بھی نہیں بھرا، اس کے بعد انہوں نے ایسا مارشل مسلط کیا جو کاغذوں میں نہیں ہے لیکن اصل میں مارشل کا ہے.
علی امین فنڈاپور نے الزام لگایا، " فوج اپنی مداخلت سے محاذ پر کھڑے ہوئے سپاہی کی عزت مجروع کر رہی ہے". "ان سے سوال کرو تو یہ اپنے آپ کو جوابدہ نہیں سمجھتے لیکن ان کو جواب دینا ہوگا ،ہم ان کو جوابدہ ٹھہرائیں گے".
علی امین گنڈپور نے پاکستان کی مسلح افواج پر الزام تراشی جاری رکھتے ہوئے مزید الزام لگایا کہ " ان کو اندازہ ہی نہیں اس سے پاکستان کو کتنا نقصان ہوا لیکن ان کو شرمندگی بھی نہیں ہے".
ملک فتح کریں گے
خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ نے آج ایک بار پھر پاکستان کو فتح کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس نے کہا، "آج لاہور سے ہم تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں انشا اللہ ہماری تحریک پورا ملک فتح کرے گی۔" اس کے ساتھ ہی علی امین نے اجلاس کی ناکامی کا اعتراف کئے بغیر یہ کہا کہ تمام صوبوں کے پی ٹی آئی رہنما خود یہ فیصلہ کریں گے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے الزام لگایا، "ہمار لیڈر بے گناہ جیل میں ہے".
علی امین گنڈاپور نے عجیب و غریب دعویٰ کیا کہ عمران خان پر کوئی کیس نہیں ہے۔ (خود عمران خان کہتا ہے کہ اس پر سینکڑوں کیس ہیں)
ملک احمد خان بچھر نے اجلاس میں کہا کہ چیف منسٹر علی امین گنڈا پور کا ہم شایان شان استقبال نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یاسمین راشد محمود الرشید،شاہ محمود قریشی اور اعجاز چودھری سرفراز چیمہ تکالیف دیکھ کر ہمیں اپنی تکلیفیں چھوٹی لگتی ہیں۔
چیف منسٹر پچھلی دفعہ جب اسمبلی آئیں تو ہمارے 11 ممبر معطل ہوئے ،اس دفعہ تو26ممبر معطل ہوئے،اس سے اندازہ لگائیں کہ وہ پی ٹی آئی ہے ایک160 ٹاییگرز سے کتنی خوفزدہ ہیں۔
اجلاس میں ممبر قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا، 2013میں بھی ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا گیاتھا،2024 میں بھی ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارا گیا۔
علی محمد خان نے الزام لگایا کہ "بھارت کو جواب دینے اور اسرائیل کوتسلیم نہ کرنے کی سزا بانی پہ ٹی آئی کو دی جا رہی ہے۔ " علی محمد نے یہ وضاحت نہیں کہ کہ بانی نے بھارت کو کب کیا جواب دیا تھا اور بانی نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے کب انکار کیا تھا ۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کا ایجنڈا بانی پی ٹی آئی اور دیگر کی رہائی کے لیے سیاسی تحریک شروع کرنا تھا، پارٹی رہنماؤں کے درمیان اس بات پر مشاورت ہو ئی کہ عوام کو اس مقصد کے لیے کس طرح متحرک اور منظم کیا جائے۔ اجلاس میں لانگ مارچ کی تجویز بھی زیر غور آئی البتہ ایک سڑک یا چوک بند کرنے کا منصوبہ فی الحال ڈراپ کر دیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس بار تحریک کا آغاز پنجاب، لاہور سے کیا جائے گا کیونکہ ماضی میں اسلام آباد اور خیبرپختونخوا سے شروع ہونے والی تحریکوں میں پنجاب کی کارکردگی موثر نہ تھی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ اپنے حلقوں میں عوامی رابطہ مہم شروع کریں،پمفلیٹس تقسیم کیے جائیں گے۔
ورکرز کنونشنز اور کارنر میٹنگز تحصیل اور محلہ سطح پر کروائی جائیں،ہر حلقے میں پرامن احتجاج کیا جائے۔
ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی منظوری بانی دے گا۔علی امین گنڈاپور کل لاہور میں "تحریک کے لائحہ عمل کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔"