ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سموگ تدارک کیس ،عدالت کادرخت کاٹنےپرپی ایچ اےافسران وملازمین کیخلاف کارروائی پراطمینان

 سموگ تدارک کیس ،عدالت کادرخت کاٹنےپرپی ایچ اےافسران وملازمین کیخلاف کارروائی پراطمینان
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ میں سموگ تدارک کیس کی سماعت، پی ایچ اے نے درختوں کی کٹائی کرنیوالے افسران کو معطل کرکے رپورٹ پیش کردی،عدالت کا افسران کیخلاف کارروائی پر اطمینان کا اظہار،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ڈی جی پی ایچ اے کی اجازت کے بغیرکوئی درخت نہ کاٹا جائے۔

جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک کے متعلق کیس کی سماعت کی ، پی ایچ اے کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت نے ڈاکٹر ہسپتال کے قریب درخت کاٹنے والے افسران کے خلاف کی گئی کاروائی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی ، جس کے مطابق پراجیکٹ ڈائریکٹر پی ایچ اے جاوید حامد سمیت چار افسران و ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے درختوں کی کٹائی پر ذمہ داران کے خلاف کارروائی کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے اطمینان کا اظہار کیا۔ جسٹس شاہد کریم نے واضح ہدایات جاری کیں کہ ڈی جی پی ایچ اے کی اجازت کے بغیر شہر میں کسی درخت یا اس کی شاخ کی کٹائی نہ کی جائے۔ ممبر ماحولیاتی کمیشن نے ڈاکٹر ہسپتال کے قریب درختوں کی کٹائی سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کی۔ پی ایچ اے کی جانب سے بیرسٹر حارث عظمت نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت محکمانہ کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔

عدالت میں مکالمے کے دوران جسٹس شاہد کریم نے وکیل پی ایچ اے سے استفسار کیا کہ “تمہارے ہوتے ہوئے یہ کیا ہو رہا ہے، آپ ہر دفعہ کہتے ہیں ایسا نہیں ہوگا۔” اس پر ممبر ماحولیاتی کمیشن نے بتایا کہ انہوں نے خود موقع پر جا کر معائنہ کیا اور ایسی شاخیں کاٹی گئیں جنہیں کاٹنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جسٹس شاہد کریم نے سوال اٹھایا کہ ان شاخوں کو کاٹنے کی اجازت کس نے دی۔وکیل پی ایچ اے بیرسٹر حارث عظمت نے مؤقف اختیار کیا کہ شاخوں کی کٹائی مبینہ طور پر حادثات کے خدشے کے باعث کی گئی، تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ آج تک شاخوں کی وجہ سے کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ وکیل پی ایچ اے نے بتایا کہ ایک گریڈ 19 افسر کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تین دیگر افسران کے خلاف انکوائری شروع کر دی گئی ہے، اور انہیں محکمہ سے فارغ کرنے کے لیے ڈی جی پی ایچ اے کو بھی ہدایات دی جا چکی ہیں۔ اس پر جسٹس شاہد کریم نے “ویری گڈ” کے الفاظ کے ساتھ کارروائی کو سراہا تاہم مزید سختی کی ہدایت بھی دی۔
سماعت کے دوران داتا دربار کے قریب موجود ایک درخت کے حوالے سے بھی بات کی گئی، جس پر وکیل پی ایچ اے نے یقین دہانی کرائی کہ اس درخت کو کاٹنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ پارکس کو صاحبِ حیثیت افراد یا کمپنیوں کے ذریعے اڈاپٹ کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں بدھ کے روز پی ایچ اے آفس میں اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے۔ 

جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ درخت یا اس کی شاخ کاٹنے سے قبل مکمل جائزہ لیا جائے کہ آیا اسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے یا نہیں۔ درخت کاٹنے والوں کو محکمہ سے نکال دینا چاہیے۔پی ایچ اے کے وکیل نے ناصر باغ میں درختوں کی کٹائی کے حوالے سے اپنے دورے سے بھی عدالت کو آگاہ کیا اور بتایا کہ اس معاملے پر مزید رپورٹ جمعہ کو پیش کی جائے گی۔ عدالت نے سموگ تدارک کیس کی مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی کر دی۔، کمیرہ مین ٹیپو منیر کے ہمراہ ملک محمد اشرف سٹی فورٹی ٹو
 

Ansa Awais

Content Writer