ویب ڈیسک: مودی حکومت کو مبینہ بدعنوانی کے معاملات پر عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے، جبکہ قطر میں ایک سابق بھارتی بحری افسر کی دوبارہ گرفتاری نے بھارتی سفارتی کارکردگی اور فوجی اداروں کی ساکھ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ سابق بھارتی نیوی افسر پورنیندو تیواری اس وقت قطر میں حراست میں ہیں۔ اس سے قبل بھی قطر میں آٹھ سابق بھارتی بحری افسران کو مبینہ جاسوسی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا، جس کی تصدیق معروف بھارتی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کی ہے۔
اکتوبر 2023 میں قطری عدالت کی جانب سے ان افسران کو سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے نے بھارت میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی تھی۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششوں کے باوجود قطر نے ان افسران کو بھارت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس معاملے نے بھارتی فوج کو عالمی سطح پر شدید تنقید اور سبکی سے دوچار کیا، جبکہ مودی حکومت کی سفارتی حکمتِ عملی اس بحران کو مؤثر انداز میں حل کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کی عسکری تربیت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط پر پہلے ہی سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ مبینہ بدعنوانی نے اس کے پیشہ ورانہ دعوؤں کو مزید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق داخلی کرپشن اور نظم و نسق کے مسائل کے باعث بھارتی فوج کی ساکھ اور کارکردگی متاثر ہو رہی ہے، جو حالیہ واقعات کے بعد مزید نمایاں ہو گئی ہے۔
یہ معاملہ نہ صرف بھارت اور قطر کے دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج بنتا جا رہا ہے بلکہ اس نے بھارتی حکومت اور فوج کی عالمی سطح پر ساکھ کو بھی متاثر کیا ہے۔
قطر میں سابق بھارتی بحری افسر کی جاسوسی کے الزام میں گرفتاری