اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے ہفتہ تک یرغمالیوں کو رہا کرنے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ حماس نے پیر کے روز اعلان کیا تھا کہ وہ آئندہ ہفتے مزید یرغمالیوں کی رہائی کا سلسلہ روک رہی ہے۔ اس اعلان کے بعد غزہ مین دوبارہ جنگ کے شعلے بھڑکنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
منگل کی شام ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ سیکیورٹی کابینہ نے متفقہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے اسرائیلی یرغمالیوں کو ہفتے کے روز تک رہا کرنے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔
اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے حوالے سے بتایا گیا کہ وہ غزہ کے مستقبل کے لیے ٹرمپ کے "انقلابی وژن" کی بھی حمایت کرتے ہیں جس میں فلسطینیوں کو دوبارہ آباد کیا جائے گا اور امریکہ تعمیر نو کی کوششوں کا کنٹرول سنبھالے گا۔
سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے فوراً بعد اسرائیل نے جنگ کے دوران اہم فیصلے کرنے کے لئے خصوصی سکیورٹی کابینہ تشکیل دی تھی جسے جنگ کے متعلق خاص اختیارات حاصل تھے۔ جنگ کے آغاز سے لے کر چند ماہ پہلے تک وزیر دفاع یواو گیلنت اس کابینہ مین جنگ کی بجائے مذاکرات کے ذریعہ یرغمالیوں کی واپسی کی طرف جانے کے حامی تھے، انہیں کابینہ سے الگ کئے جانے کے بعد اب اس کابینہ میں سبھی لوگ جنگ کے سرگرم حامی ہیں۔
منگل کے روز یہ اجلاس، حماس کے اس اعلان پر اسرائیل کے ردعمل پر بات کرنے کے لیے بلایا گیا تھا کہ وہ مستقبل میں یرغمالیوں کی رہائی کو منجمد کر دے گی۔ آج سکیورٹی کابینہ کا اجلاس چار گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد یہ رسمی بیان آیا کہ حماس یرغمالیوں کو ہفتے کے روز تک واپس کرے۔ سکیورٹی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیراعظم نیتن یاہو نے الگ سے ایک ویڈیو بیان دیا جس مین انہوں نے حماس کو ہفتے تک یرغمالی رہا نہ کرنے کی صورت مین غزہ مین شدید جنگ ہونے کی وارننگ دی۔
گزشتہ رات، نیتن یاہو نے آئی ڈی ایف کو حکم دیا کہ وہ غزہ کی پٹی اور اس کی سرحدوں پر پوزیشنیں مضبوط کرے، اور اگر حماس ہفتے کے روز یرغمالیوں کو رہا کرنے میں ناکام رہتی ہے تو "تمام منظرناموں" کے لیے تیار رہے۔
یروشلم میں ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ کابینہ کے اجلاس سے پہلے نیتن یاہو نے اپنے مشیروں کے ساتھ مختصر بات چیت کی۔