ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کے پی کے وزیر اعلیٰ آئے روز اڈیالہ جیل کے باہر تماشا لگا دیتے ہیں؛ یہی رویہ رہا تو گورنر راج ناٖفذ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ؛ وفاقی وزیر رانا تنویر

کے پی کے وزیر اعلیٰ آئے روز اڈیالہ جیل کے باہر تماشا لگا دیتے ہیں؛ یہی رویہ رہا تو گورنر راج ناٖفذ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ؛ وفاقی وزیر رانا تنویر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: شرقپور شریف میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے چیئرپرسن سہولت بازار افضل کھوکھر کے ہمراہ سہولت بازار کا افتتاح کردیا۔انہوں نے کہا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ آئے روز اڈیالہ جیل کے باہر تماشا لگا دیتے ہیں، جو مناسب طرزِ عمل نہیں۔  اگر خیبر پختونخوا میں یہی رویہ برقرار رہا تو گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے شرقپور شریف میں چیئرپرسن پنجاب سہولت بازار اتھارٹی افضل کھوکھر کے ساتھ ملکر شرقپور میں قائم نئے سہولت بازار کا افتتاح کر دیا۔ اس موقع پر انکے ہمراہ ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ عمران مارتھ اور ممبر پنجاب اسمبلی رانا طاہر اقبال کے علاؤہ عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

 وفاقی وزیر رانا تنویر حسین میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے بھر کی تمام تحصیلوں میں عوام کی آسانی اور ریلیف کے لیے بہترین سہولت بازار قائم کیے ہیں، جہاں ضرورت کی اشیاء سرکاری نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ پنجاب حکومت عوام دوست اقدامات کر رہی ہے اور مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے کے لیے مزید اصلاحات بھی جاری ہیں۔
سیاسی معاملات پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے ملکی سیاسی صورتحال پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ کے پی کے وزیر اعلیٰ آئے روز اڈیالہ جیل کے باہر تماشا لگا دیتے ہیں، جو مناسب طرزِ عمل نہیں۔  اگر خیبر پختونخوا میں یہی رویہ برقرار رہا تو گورنر راج نافذ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

 رانا تنویر حسین نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو اڈیالہ سے کسی دوسری جیل منتقل کر دینا چاہیے تاکہ امن و امان کی صورتحال متاثر نہ ہو۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جب بھی آئینی ترمیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، پارلیمنٹ نے ہمیشہ اس کو منظور کیا ہے۔ آٹھویں ترمیم میں ضیا الحق نے پورا آئین بدل دیا تھا، جس نے ملکی سیاست کا رخ طویل عرصے تک متاثر کیا۔

رانا تنویر حسین نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی سزا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستان کی فوج سخت اور شفاف احتساب کرتی ہے، اور کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں۔