بابر شہزاد ترک: وفاقی بیوروکریسی میں تقرر و تبادلوں، معطلی، اضافی چارج میں توسیع اور افسران کو او ایس ڈی بنانے کے حوالے سے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے متعدد نوٹیفکیشن جاری کردیئے۔
جاری نوٹیفکیشنز کے مطابق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود کے پاس سیکرٹری ریونیو ڈویژن کا اضافی چارج مزید 3 ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ توسیع کا اطلاق 8 اگست 2026 سے ہوگا۔
پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 22 کے افسران سید ظفر علی شاہ اور مومن آغا کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔ سید ظفر علی شاہ کو 4 مئی 2026 جبکہ مومن آغا کو 9 جنوری 2026 سے او ایس ڈی قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سیکرٹری بینظیر انکم سپورٹ پروگرام عامر علی احمد کے پاس سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کا کرنٹ چارج بھی مزید 3 ماہ کے لیے بڑھا دیا گیا ہے، جس کا اطلاق 19 اگست 2026 سے ہوگا۔
دوسری جانب سیکریٹریٹ گروپ کے گریڈ 20 کے افسران کے تقرر و تبادلوں کے تحت تقرری کے منتظر نیاز محمد خان کو جوائنٹ سیکریٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی ڈویژن جبکہ عارف کریم کو جوائنٹ سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔
جوائنٹ سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن ناصرہ بتول جعفری کا تبادلہ کرکے انہیں جوائنٹ سیکریٹری کابینہ ڈویژن مقرر کردیا گیا ہے، جبکہ تقرری کے منتظر محمد عرفان خان کو ڈپٹی سیکریٹری صنعت و پیداوار ڈویژن تعینات کیا گیا ہے۔
ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق بلوچستان حکومت کے ماتحت تعینات پولیس سروس آف پاکستان کے گریڈ 18 کے افسر عبدالجبار کو سول سرونٹس (ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے رول 5 کے تحت ابتدائی طور پر 120 روز کے لیے فوری طور پر معطل کردیا گیا ہے۔
عبدالجبار کو حکومت بلوچستان سے تبدیل کرکے فوری طور پر اور تاحکم ثانی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وفاقی حکومت نے غلام اللہ شیخ کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ممبر (لا) مقرر کردیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق تقرری ریگولیشن آف جنریشن، ٹرانسمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن آف الیکٹرک پاور ایکٹ 1997 کی دفعہ 3(2)(c)(ii) کے تحت کی گئی ہے۔
غلام اللہ شیخ تین سال کی مدت کے لیے نیپرا کے ممبر (لا) کے طور پر فرائض انجام دیں گے اور ان کی تقرری فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق غلام اللہ شیخ کو ماہانہ تنخواہ اور دیگر مراعات ایم پی-I اسکیل کی اوسط تنخواہ کے مساوی دی جائیں گی، جبکہ مقررہ مراعات اور سہولیات بھی حاصل ہوں گی۔